مضامین بشیر (جلد 2) — Page 574
مضامین بشیر ۵۷۴ یعنی اگر کسی آیت میں کسی نیک عمل کا حکم ہوتا ہے تو کسی دوسری آیت میں کسی بد عمل سے روکا جاتا ہے اسی طرح اگر کسی آیت میں کسی انعام پانے والی قوم کا ذکر کر کے نیکی کی تحریک کی جاتی ہے تو کسی دوسری آیت میں کسی مغضوب علیہ قوم کی طرف اشارہ کر کے اس کے طریق سے ہوشیا را اور مجتنب رہنے پر زور دیا جاتا ہے۔پس قرآن پڑھنے والے کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی آیت پر سے گذرے تو اس آیت کے مفہوم کو سامنے رکھ کر اپنے نفس میں محاسبہ کرتا جائے کہ کیا اس آیت میں جس کام کا حکم دیا گیا ہے میں اس پر پوری طرح کاربند ہوں یا کیا اس آیت میں جس کام سے روکا گیا ہے میں اس سے پوری طرح رکا ہوا ہوں ؟ اسی طرح اگر کسی آیت میں کسی منعم قوم کا ذکر ہے تو قرآن پڑھنے والا اپنے نفس میں غور کرے کہ کیا میں سچ مچ اس رستہ پر گامزن ہوں جو انعام پانے کا رستہ ہے اور اگر کسی آیت میں کسی مغضوب علیہ قوم کا ذکر ہے تو اس بات پر غور کرے کہ کیا میں غلطی سے خدا کے غضب کو بھڑ کانے والے رستہ پر تو قدم زن نہیں ہو رہا؟ اس طریق تلاوت کی طرف خود قرآن شریف نے اشارہ کیا ہے۔چنانچہ سورۃ فرقان میں فرماتا ہے کہ: ۶۵ وَالَّذِينَ إِذَادُ كُرُوا بِايْتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّ وَاعَلَيْهَا صُمَّا وَ عُمْيَانًا BO یعنی سچے مومن وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے خدائی آیات آتی ہیں تو وہ ان آیتوں پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔اس آیت میں یہی سبق دیا گیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اس قسم کی تلاوت سے انسان قرآن کی ہر آیت کو اپنے لئے زندہ استاد اور ایک زبر دست سبق بنا سکتا ہے اور یہی قرآن کریم کی اصل غرض و غایت ہے۔بیشک قرآن کریم میں حکمت اور عرفان کے بیشمار خزانے مخفی ہیں اور ہر انسان اپنے اپنے درجے اور اپنی اپنی جستجو کے مطابق ان خزانوں سے حصہ پاتا ہے اور پاسکتا ہے مگر قرآن کی اولین غرض یہ ہے کہ وہ انسانوں کے لئے شمع ہدایت کا کام دے اور یہ غرض صرف اسی طرح حاصل ہو سکتی ہے کہ قرآن پڑھتے ہوئے اس کی ہر آیت کے متعلق یہ سوچا جائے کہ میں اس کے اوامر پر کہاں تک عمل کر رہا ہوں اور اس کے نواہی سے کہاں تک رکا ہوا ہوں اس رنگ میں تلاوت کرنے والا شخص چند دن میں ہی اپنے اندر ایسی غیر معمولی تبدیلی محسوس کرے گا جو زندگی بھر کی رسمی تلاوت سے بھی پیدا نہیں ہوسکتی۔خدا کرے کہ ہماری تلاوت ایک بے جان اور مردہ تلاوت نہ ہو بلکہ ایسی زندہ تلاوت ہو جو ہر گھڑی پھولتی اور پھلتی اور ہر آن ایک نیا پھل پیش کرتی ہے۔و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين الفضل ۲۶ جون ۱۹۴۹ء)