مضامین بشیر (جلد 2) — Page 571
۵۷۱ مضامین بشیر رمضان میں تلاوت قرآن کے دو دور ہر آیت پر غور کرنے کی عادت ڈالو! حال ہی میں میرا ایک مضمون الفضل میں شائع ہوا ہے جس میں میں نے اپنی سمجھ کے مطابق رمضان کے مبارک مہینہ میں دعاؤں پر خاص زور دینے کے متعلق دوستوں میں تحریک کی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے مخلصین اس سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ذیل کا مضمون رمضان ہی کے ایک دوسرے پہلو سے تعلق رکھتا ہے یعنی یہ کہ رمضان میں قرآن کریم کی تلاوت کس طرح اور کتنی دفعہ ہونی چاہیئے ؟ جیسا کہ سب دوستوں کو معلوم ہے رمضان کے مہینہ کو قرآن کی تلاوت کے ساتھ مخصوص تعلق ہے کیونکہ قرآن کریم کے نزول کی ابتداء رمضان کے مہینہ میں ہی ہوئی تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ - ۶۲ د یعنی رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں خدا کی آخری اور کامل شریعت کا نزول شروع ہوا۔“ اسی وجہ سے رمضان کے مہینہ میں قرآن کریم کی تلاوت پر خاص زور دیا گیا ہے۔حتی کہ حدیث میں آتا ہے کہ ہر رمضان کے مہینہ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام جو فرشتوں کے سردار ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور اس وقت تک قرآن کریم کا جتنا حصہ نازل ہو چکا تھا وہ آپ کے ساتھ مل کر دہراتے تھے۔اس مشتر کہ دہرائی میں تین غرضیں مد نظر تھیں :- ا۔تا کہ قرآن کے الفاظ زیادہ سے زیادہ مضبوطی اور زیادہ سے زیادہ پختگی کے ساتھ آنحضرت ۶۳ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں قائم اور راسخ ہو جائیں اور قرآنی الفاظ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى (یعنی ہم تجھے قرآن سکھائیں گے اور ایسے رنگ میں سکھائیں گے کہ پھر وہ بھلایا نہیں جاسکے گا) کی ایک عملی تشریح قائم ہو جائے۔۲۔تا کہ قرآن کریم کے معانی اور معارف اور انوار کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل و دماغ میں زیادہ سے زیادہ نفوذ ہو اور پھر آپ اس نور کو اپنی امت میں زیادہ سے زیادہ پھیلا سکیں جیسا کہ قرآن کی پہلی آیت کے نزول کے وقت حضرت جبرائیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ