مضامین بشیر (جلد 2) — Page 562
مضامین بشیر ۵۶۲ رمضان آتا ہے رمضان ! ابھی سے خاص دعاؤں کی عادت ڈالو اس سال جب میں نے شعبان کی پہلی رات کا چاند دیکھا تو اس وقت دعا کرتے ہوئے میں نے یہ ارادہ بھی کیا تھا کہ میں انشاء اللہ العزیز رمضان کے شروع میں ہی رمضان کی برکات کی طرف دوستوں کو توجہ دلا کر دعاؤں کی تحریک کروں گا اور شریعت اسلامی کے اس نفسیاتی نکتہ کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ اس نے ہر بڑے نیک عمل کے آگے اور پیچھے پہرہ دار مقرر کر رکھے ہیں۔تا کہ نیک عمل سے مرکزی نقطہ کو توجہ کے انتشار سے بچایا جائے۔افسوس ہے کہ میں شروع شعبان میں اپنی اس خواہش کو پورا نہیں کر سکا۔کیونکہ اول تو آجکل نہ معلوم کس وجہ سے مضمون نویسی کی طرف طبیعت اس قدر مائل نہیں جس قدر کہ گذشتہ سال مائل تھی۔اور دوسرے گذشتہ دنوں میں درد نقرس اور بخار وغیرہ کی وجہ سے بیمار بھی رہا ہوں اور پریشانیاں بھی لاحق رہی ہیں۔اس لئے گوشعبان کا ابتدائی حصہ گزر چکا ہے اور اب گویا رمضان کی آمد آمد ہے۔میں یہ مضمون مختصر طور پر لکھ کر دوستوں کے فائدہ کے لئے پیش کرتا ہوں۔میری غرض اس مضمون میں رمضان کی برکات کی طرف توجہ دلانا نہیں بلکہ مخصوص قسم کی دعاؤں کی طرف توجہ دلانا اصل مقصد ہے۔جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔اسلام کا ایک زریں اصول ہے اور یہ اصول در اصل اہم نفسیاتی فلسفہ پر مبنی ہے کہ وہ ہر نیک عمل کے مرکزی نقطہ کو محفوظ کرنے کے لئے اس کے دونوں پہلوؤں کی طرف پہرہ دار کھڑے کر دیتا ہے۔تا کہ انسان کو توجہ کے انتشار سے بچایا جا سکے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب انسان کسی کام میں داخل ہوتا ہے۔تو وہ فوراً ہی اس کام میں اپنی پوری توجہ نہیں جما سکتا بلکہ وقت کی کوشش کے بعد توجہ کے جمانے میں کامیاب ہوتا ہے۔اسی طرح جب وہ کسی کام کے کرنے سے فارغ ہونے لگتا ہے تو فارغ ہونے کے وقت سے کچھ عرصہ پہلے ہی اس کی توجہ ہٹنا شروع ہو جاتی ہے۔اس کی مثال ایک گاڑی کی سی سمجھنی چاہئے جو پوری رفتار پکڑنے سے پہلے لازماً کچھ وقت تک آہستہ چلنے پر مجبور ہوتی ہے۔اور اسی طرح رکنے سے قبل بھی کچھ عرصہ پہلے سے اپنی رفتار کو دھیما کر دیتی ہے۔پس اگر انسانی فطرت کے اس خاصہ کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ نیک اعمال کے پہلوؤں میں پہرہ دار مقرر نہ کرتا