مضامین بشیر (جلد 2) — Page 459
۴۵۹ مضامین بشیر سب سے اول ہستی کے متعلق یہ پوچھنا کہ اس سے پہلے کیا تھا ایک فضول سوال ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی شکل کیسی ہے؟ سومحبت کے انداز میں تو یہ سوال بہت عمدہ اور ایک مومن کی قلبی تلاش کا سچا آئینہ ہے مگر علمی پہلو کے لحاظ سے یہ سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ شکل وصورت کا سوال مادہ سے تعلق رکھتا ہے اور خدا کوئی مادی ہستی نہیں کہ اس کے متعلق شکل کا سوال پیدا ہو۔بلکہ وہ تو جاندار مادہ کے اندر کی روح سے بھی بالا ہستی ہے اور مادہ اور روح دونو اس کی مخلوق ہیں۔پس خدا کی ذات کے متعلق ہرگز وہ سوال پیدا نہیں ہو سکتا جو مادہ وغیرہ جیسی محدود چیزوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔خوب سوچو کہ شکل وصورت والی چیز میں ایک طرف تو مادہ کی متقاضی ہیں اور دوسری طرف محدودیت کی۔یعنی شکل صرف اسی چیز کی ہوسکتی ہے جو مادی اور محدود ہو مگر خدا ان باتوں سے بالا ہے۔اسی لئے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔۱۳۷ لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكَ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ یعنی خدا ایسی ہستی ہے کہ اسے انسانی آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی جانتا ہے کہ انسان کے دل و دماغ اس کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں اس لئے وہ خود اپنی صفات کی تجلی کے ساتھ انسانوں کی طرف نازل ہوتا ہے۔کیونکہ گو وہ لطیف ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آ سکتا مگر وہ خبیر ہونے کی ط ۱۳۸ وجہ سے انسانوں کی ضرورتوں سے واقف ہے اور ان کی تلاش اور جستجو کا قدر دان بھی ہے۔پس حق یہی ہے کہ خدا شکل وصورت کے سوال سے بالا ہے۔ہاں اس کے متعلق صفات کا سوال ضرور پیدا ہو سکتا ہے یعنی یہ کہ خدا میں کیا کیا صفات پائی جاتی ہیں اور دراصل اس کی صفات ہی اس کی شکل وصورت ہیں۔جس کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے کہ لَهُ الْأَسْمَاءِ الْحُسْنَى یعنی خدا بہترین صفات کا مالک ہے۔پس میرے سوال کرنے والے دوست اس فضول الجھن میں نہ پڑیں کہ خدا کی شکل کیا ہے۔کیونکہ اگر بفرض محال ان کو اس سوال کا جواب مل بھی جائے تو پھر بھی خدا کی ظاہری شکل وصورت انہیں دین و دنیا میں کسی کام نہیں آسکتی۔ہاں خدا کی یہ صفات کہ مثلاً وہ ربّ العالمین ہے اور وہ رحیم ہے۔اور وہ رحمن ہے اور وہ مالک یوم الدین ہے وغیرہ وغیرہ۔ضروران کے اور ہم سب کے کام آنے والی ہیں اور انہی کی طرف مومن کی توجہ ہونی چاہئے۔تیسرا سوال یہ ہے کہ خدا ایک ہی وقت میں سب کی دعا کس طرح سن لیتا ہے؟ یہ سوال ظاہر کرتا ہے کہ سائل نے خدا جیسی کامل اور خالق الکل اور وراء الوراء ہستی کو بھی اپنی محدود طاقتوں پر قیاس کیا ہے اور خیال کیا ہے کہ جب ہم بہت سی آوازوں کے شور و غوغا میں کسی شخص کی بات نہیں سن سکتے تو خدا ان کروڑوں لوگوں کی دعا کس طرح سن سکتا ہے جو ایک ہی وقت میں اس سے دعا کر رہے ہوتے