مضامین بشیر (جلد 2) — Page 452
مضامین بشیر ۴۵۲ اور خدا کو سچا۔پس تم پھر شہد کو ہی استعمال کرو کہ شاید پہلے استعمال میں کوئی غلطی رہ گئی ہو۔چنانچہ اس نے دوبارہ شہد استعمال کیا۔اور اس دفعہ اپنی بیماری سے شفا پائی۔پس میں بھی اپنے دوست سے یہی کہوں گا کہ جو شخص کثرت اولاد کی وجہ سے رزق کی تنگی محسوس کرتا ہے اس کا یہ تجر بہ جھوٹا ہے اور خدا بہر حال سچا ہے۔دراصل اکثر لوگوں میں یہ مرض ہوتا ہے کہ یا تو وہ خاطر خواہ محنت ہی نہیں کرتے اور یا محنت تو کرتے ہیں مگر اس محنت میں صحیح راستہ اختیار نہیں کرتے اور یا اپنی اولاد کے متعلق غلط پالیسی میں مبتلا ہوتے ہیں۔اور ہر بچہ کو بلا وجہ اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے ہیں۔حالانکہ بسا اوقات بی۔اے۔ایم۔اے کی بجائے بچپن میں ہی کسی پیشہ وغیرہ میں ڈال دینا زیادہ مفید ہوتا ہے۔اور یورپ و امریکہ میں سینکڑوں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ غرباء کے بچوں نے لوہار کا کام سیکھ کر بالا آخر ملک میں چوٹی کی پوزیشن حاصل کر لی اور بہت سی قیمتی ایجادیں ایسے ہی لوگوں کی محنت کا ثمرہ ہیں۔پس جب یورپ اور امریکہ کی قوموں میں یہ نمونہ پایا جاتا ہے تو اسلام میں جو حقیقی مساوات کا علمبر دار ہے یہ رنگ کیوں نہ پیدا ہو؟ ( مطبوعہ الفضل ۱۷؍ دسمبر ۱۹۴۸ء)