مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 29 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 29

۲۹ مضامین بشیر جب فرعون مصر نے حضرت موسیٰ پر یہ احسان جتایا کہ تو ہمارے گھر کے ٹکڑوں پر پلا ہے تو حضرت موسیٰ نے بے ساختہ جواب دیا کہ ایک دریا میں بہتے ہوئے بچے کو باہر نکال کر پال لینا ایک معمولی قسم کی نیکی ہے۔جس پر تجھے اس طرح فخر کرتے ہوئے شرم محسوس ہونی چاہیئے مگر یہ جو تو نے ایک قوم کی قوم کو غلام بنا رکھا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے :- قَالَ أَلَمْ تُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا وَلَبِثْتَ فِيْنَا مِنْ عُمْرِكَ سِنِينَ۔۔۔وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَى اَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرَاءِ يْلَ۔۔۔۔۔۔د یعنی فرعون نے موسٹی سے کہا کیا ہم نے تجھے بچپن میں اپنے گھر میں نہیں پالا اور کیا تو نے ہمارے ساتھ رہ کر سالہا سال اپنی زندگی نہیں گزاری۔۔۔موسی نے کہا تم میری ذات پر یہ چھوٹا سا احسان جتاتے ہومگر اپنے اخلاق کا یہ بھیا نک پہلو بھولے ہوئے ہو کہ تم نے میری ساری قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔“ پس قوموں کا حق خود اختیاری ابتدائی زمانہ سے مسلّم ہے۔اور کسی دوسری قوم کو اس حق میں جابرانہ دست اندازی کا اختیار نہیں۔لہذا اگر مسلمانوں کی اکثریت اپنے لئے پاکستان پسند کرتی ہے تو محض اس کی یہ خواہش اور اس کا یہ مطالبہ ہی اس کے جواز کی دلیل ہے اور ہندوؤں یا انگریزوں کو اس پر چھیں بچھیں ہونے یا اس میں روڑے اٹکانے کا کوئی حق نہیں۔یہ کہنا کہ پاکستان کی سکیم میں یہ نقص ہے یا وہ نقص ہے۔یا یہ کہ پاکستان کا مطالبہ مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ہے یا یہ کہ پاکستان کی نسبت فلاں سکیم مسلمانوں کے لئے زیادہ مفید ہوسکتی ہے۔ایک ہمدردانہ مشورہ کی حیثیت میں تو قابل اعتراض نہیں کیونکہ مشورہ کی صورت میں مشورہ لینے اور دینے والا دونوں سمجھتے ہیں کہ یہ ایک محض ایک مشورہ ہے اور ضروری نہیں کہ وہ بہر صورت قبول کیا جائے اور آخری فیصلہ بہر حال اس قوم کے ہاتھ میں ہوتا ہے، جس نے اپنے گھر کے انتظام کو چلانا ہے مگر اس معاملہ میں مشورہ کی حد سے نکل کر جبر و استبداد کا رنگ اختیار کرنا اور اپنی مرضی کو دوسری قوم کی مرضی پر اس طرح ٹھونسنا جس طرح کہ ایک فاتح اپنے مفتوح پر اور ایک آمر اپنے مامور پر حکم چلاتا ہے یقیناً ایک درجہ ظالمانہ فعل ہے جس کی دنیا کا کوئی ضابطہ اخلاق اجازت نہیں دیتا مگر افسوس ہے کہ آج کل دنیا کی ہر جابر قوم اپنے کمزور ہمسایوں کے ساتھ یہی کھیل کھیل رہی ہے۔اور کوئی نہیں پوچھتا۔قومی یا انفرادی آزادی فطرت کا اولین اصول ہے اور اس اصول میں صرف اسی قسم کی استثناء جائز ہے جس طرح کہ بعض اوقات ایک آزاد انسان کو اس کے کسی جرم کی وجہ سے وقتی طور پر قید خانہ میں ڈال دیا جاتا ہے۔پس سوائے اس کے کہ ہند وستان کے مسلمان مجرم قرار دئیے جا کر آزادی کے حق سے محروم قرار دئیے جائیں۔ان کا حق خود اختیاری کا