مضامین بشیر (جلد 2) — Page 28
مضامین بشیر ۲۸ ہندوستان کی سیاسی الجھن کیا پاکستان کا مطالبہ جائز نہیں؟ اپنے گزشتہ مضمون میں جو الفضل ، مورخہ ۱۸ اپریل میں شائع ہو چکا ہے۔میں نے ہندوستان کی موجودہ سیاسی الجھن کے بارے میں بعض خیالات کا اظہار کیا تھا اور پاکستان اور اکھنڈ ہندوستان کے متعلق ہر دو قوموں کا نظریہ پیش کر کے بتایا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مطالبات کا ماحصل اور دلائل کا خلاصہ کیا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کے حسن و قبح کے متعلق بعض اشارے کئے تھے اور مسلمانوں کی کمزوری اور مظلومیت کی طرف اہل وطن کو توجہ دلائی تھی۔اس کے بعد گو ابھی میرے پاس قریباً تین چوتھائی مضمون کے نوٹ باقی تھے میں نے ایک مصلحت کے ماتحت بقیہ حصہ کو لکھنا ترک کر دیا۔لیکن ایک بات جو اس بحث میں خاص اصولی رنگ رکھتی ہے اور گویا سارے فیصلہ کی بنیاد ہے بیان کرنی ضروری ہے اور یہ مضمون اسی اصولی امر کی تشریح کے لئے لکھ رہا ہوں۔وانــمــا الاعــمــال بـالـنيــات وماتوفيقى الا بالله وہ اصولی سوال جس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا ہے یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کی طرف سے پاکستان کا مطالبہ جائز مطالبہ نہیں ؟ اس سوال کا سیدھا اور صاف جواب تو یہ ہے کہ جب ایک قوم اپنے معاملات میں آزادی اور خود اختیاری کے رستہ پر گامزن ہوتے ہوئے کوئی خاص نظام یا خاص طریق عمل اختیار کرنا چاہے تو دنیا کے ہر معروف اخلاقی قانون کے ماتحت اسے اس کا حق ہے اور کسی دوسرے کو اس کے اس حق میں روک ڈالنے یاسر راہ ہونے کا اختیار نہیں ہوتا۔کیونکہ جس طرح طبعاً اور فطرتا ہر شخص اپنے گھر کا مالک ہے اور اس کے گھر کے اندرونی نظم ونسق میں کسی دوسرے کو دخل دینے کا اختیار نہیں۔اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر ہر قوم اپنے گھر کی آپ مالک ہے اور اسے یہ اختیار ہے کہ اپنے گھریلو معاملات کو جس طرح چاہے چلائے اور اپنے لئے جو نظام پسند کرے۔اس پر کار بند ہو۔اس کے اس اختیار کو محدود کرنا اور اس کی مرضی کے خلاف اسے کسی دوسری قوم یا دوسری حکومت کی ماتحتی میں رکھنا غلامی کی قسموں میں سے ایک بدترین قسم کی غلامی ہے۔جو اپنے نتائج کی وسعت کے لحاظ سے انفرادی غلامی سے بھی بہت زیادہ ظالمانہ اور بہت زیادہ خطر ناک ہے۔یہی وجہ ہے کہ