مضامین بشیر (جلد 2) — Page 24
مضامین بشیر ۲۴ معنی ہیں ”سانجھ کا وقت یا شام کا وقت جبکہ دن رات کی گھڑیاں ملتی ہیں اور سندھیا بھی اتصال اور میل کو کہتے ہیں۔نیز سندھیا اس دعا کو بھی کہتے ہیں جو شام کو کی جاتی ہے۔جبکہ دن اور رات آپس میں ملتے ہیں ( دیکھو جامع اللغات ) تو گویا سندھی کے معنی ہوئے جوڑ والا “ یا ”ملاپ والا“ یعنی وہ بچہ جو جوڑواں یعنی تو ام پیدا ہوا ہے۔پس اس لحاظ سے نہ صرف یہ کہ یہ لفظ قابل اعتراض نہیں ہے بلکہ اس سے اس پیشگوئی کی طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ مسیح موعود کی پیدائش تو ام صورت میں ہوگی۔چنانچہ سب لوگ جانتے ہیں کہ آپ کی ولادت جوڑواں ہوئی تھی۔یعنی آپ کے ساتھ ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی تھی جو کچھ عرصہ بعد فوت ہو گئی۔باقی رہا یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام کیا تھا تو جیسا کہ دنیا جانتی ہے اور سیرۃ المہدی کے ایڈیشن دوم کی روایت نمبر ۳۶ میں تفصیل کے ساتھ لکھا جاچکا ہے آپ کا نام غلام احمد تھا۔چنانچہ یہی نام آپ کے والدین نے رکھا۔اسی نام سے آپ پکارے جاتے تھے۔یہی نام آپ نے خود ہمیشہ استعمال کیا اور یہی نام کا غذات سرکاری میں شروع سے لے کر آخر تک درج ہوا۔و من ادعی غیر ذالک فقد افترى ولعنة الله على من كذب تیسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ سیرۃ المہدی حصہ سوم کی روایت نمبر ۷۸ میں مکرم ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بوڑھی دیہاتن سردی کے موسم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاؤں دبانے لگی تو چونکہ سردی کی وجہ سے اس کے ہاتھ ٹھٹھر کر بے حس سے ہو رہے تھے اس نے ٹانگوں کو دبانے کی بجائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چار پائی کی لکڑی کو دبانا شروع کر دیا اور جب تک اسے اس کی غلطی جتائی نہیں گئی اسے یہ محسوس نہیں ہوا کہ میں پاؤں دبانے کی بجائے چار پائی کی لکڑی دبا رہی ہوں وغیرہ ذالک۔اس روایت کی بنا پر بد باطن مخالف یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گویا غیر محرم عورتوں سے دبوایا کرتے تھے۔سو اس اعتراض کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ خود اس روایت میں ہی مذکور ہے کہ یہ ملازمہ ایک بوڑھی عورت تھی اور اسلام کا یہ مسئلہ سکولوں کے بچے تک جانتے ہیں کہ بوڑھی عورتیں پردہ کی معروف قیود سے آزاد ہوتی ہیں۔(سورہ نور تفسیر ابن جریر در منثور و غیره) کیونکہ پردہ کے احکام مرد و عورت کے اختلاط کے امکانی خطرات پر مبنی ہیں مگر ظاہر ہے کہ جس طرح کم عمر لڑکیاں اس خطرہ سے باہر ہیں اسی طرح سن رسیدہ بوڑھی عورتیں بھی پردہ کی قیود سے آزاد رکھی گئی ہیں۔پس جب خود روایت کے اندر یہ صراحت موجود ہے کہ یہ عورت بوڑھی تھی تو پھر اعتراض کیسا ؟ علاوہ اس کے روایت میں یہ بھی صراحت ہے کہ یہ بوڑھی ملازمہ رضائی کے اوپر سے دباتی تھی