مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 318 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 318

مضامین بشیر ۳۱۸ فاصلہ کی دوری کی وجہ سے رسول کو دیکھ نہ سکا ہو۔اس طبقہ کو شامل کرنے کے لئے بھی اس قسم کے الفاظ صحابی کی تعریف میں داخل کرنے ضروری ہیں کہ یا آپ کا کلام سنا ہو اسی طرح بعض اور امکانی صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔جن کے ذکر کی ضرورت نہیں۔گویا بعض صحابی تو ایسے ہونگے کہ جنہوں نے رسول کو دیکھا بھی ہوگا اور اس کا کلام بھی سنا ہوگا اور بعض ایسے ہوں گے جنہوں نے رسول کو دیکھا تو نہیں ہو گا مگر اس کا کلام سنا ہو گا اور امکانی طور پر بعض ایسے بھی ہو سکتے ہیں جنہوں نے رسول کو دیکھا تو ہو گا مگر اس کا کلام نہیں سنا ہو گا۔(۲) دوسرا سوال یہ کیا گیا ہے کہ کیا کلام سننے سے بالمشافہ کلام سننا مراد ہے یا کہ غائبانہ طور پر رسول کے زمانہ میں اس کا کلام پڑھنا یا اس سے خط و کتابت کے ذریعہ فیض حاصل کرنا بھی کافی ہے۔اس کے جواب میں یا درکھنا چاہئے کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔خود آنحضرت علیہ کے زمانہ میں بھی ایک معروف بزرگ ایسے گزرے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی مسلمان ہوئے مگر انہوں نے نہ تو آنحضرت علیہ کو دیکھا اور نہ بالمشافہ آپ کا کلام سنا ان کا نام اویس قرنی تھا۔سواکثر علماء نے ان کو صحابہ کی تعریف میں شامل کیا ہے۔کیونکہ وہ رسول کے وقت میں اسلام کی نعمت سے مشرف ہوئے اور رسول کے ساتھ ان کو پیغام وسلام اور غائبانہ استفادہ کا بھی موقع میسر آیا اور مرا ذاتی میلان بھی اسی طرف ہے کہ ایسے لوگ صحابی کی تعریف میں شامل سمجھے جانے چاہئیں۔کیونکہ وہ صحابی کی تعریف کی روح کو پورا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسے کئی لوگ گزرے ہیں جو حضور کی تحریری بیعت سے مشرف ہوئے اور حضور کی تصانیف کا حضور کے زمانہ ہی میں مطالعہ کیا اور حضور کی خط و کتابت سے بھی مشرف ہوئے مگر حضور سے ملے نہیں میں ان بزرگوں کو صحابہ کی تعریف سے خارج کرنے کی جرات نہیں پاتا۔گو میں یقیناً اسے ایک بھاری محرومی خیال کرتا ہوں کہ رسول کے زمانہ کو پاکر اور اس پر ایمان لا کر پھر بھی اس کی زیارت سے محروم رہا جائے۔(۳) تیسرا سوال یہ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص رسول کے ہاتھ پر بیعت کرے لیکن بعد میں اپنی کو تہ بینی یا بد بختی سے مرتد ہو جائے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے ،سو ظا ہر ہے کہ جو شخص ایک درخت کے ساتھ اپنا پیوند جوڑنے کے بعد پھر اس پیوند کو کاٹ دیتا ہے۔وہ کسی صورت میں اس درخت کی شاخ نہیں سمجھا جا سکتا۔کیونکہ رسول کی روح کے ساتھ اس کی روح کا اتصال کٹ چکا ہے۔گزشتہ علماء نے بھی ایسے لوگوں کو صحابی کی تعریف میں شامل نہیں کیا۔کیونکہ خود آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایسے بد بخت موجود تھے کہ جنہوں نے اسلام کے نور سے روشنی حاصل کی اور پھر خود اپنے ہاتھ سے اپنے دلوں کے چراغ کو بجھا کر اپنے لئے اندھیرا پیدا کر لیا اور ایسے تمام لوگوں کو علماء اسلام نے صحابہ کی