مضامین بشیر (جلد 2) — Page 21
۲۱ مضامین بشیر سیرۃ المہدی کی بعض روایتوں پر مخالفین کا اعتراض اور ان کا مختصر تعارف مجھے بعض دوستوں کے خطوط سے معلوم ہوا ہے کہ بعض مخالفوں نے اپنے مناظرات میں سیرۃ المہدی کی بعض روائیتیوں پر اعتراض کیا ہے اور کمینہ طعنوں کا رنگ اختیار کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات والا صفات کو استہزا کا نشانہ بنایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود باجود جماعت میں اس قدر محبوب ہے کہ حضور کے خلاف جو اعتراض بھی ہوتا ہے وہ طبعاً تمام مخلصین کے دلوں کو سخت مجروح کرتا ہے مگر دوستوں کو یہ بات بھی کبھی نہیں بھولنی چاہیئے کہ مخالفوں کے یہ اعتراض اور یہ کمینے طعنے دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی نشانی ہیں کیونکہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ :- يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وَنَ یعنی افسوس لوگوں پر کہ ان کے پاس خدا کا کوئی رسول نہیں آتا کہ وہ اسے ہنسی ٹھٹھا کا نشانہ نہیں بناتے“ مگر یہ طعن و تشنیع محض عارضی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جلد ہی وہ وقت لے آتا ہے کہ اعتراض کرنے والے ذلیل وخوار ہو کر خاموش ہو جاتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ : - وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وَنَO د یعنی جلد ہی وہ وقت آ جاتا ہے کہ مخالفوں کا ہنسی مذاق انہیں تباہی کے چکر میں گھیر لیتا ہے۔“ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق تو خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ : - لَا نُبُقِي لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكُراً۔۔۔۔۔د یعنی دشمن ایک وقت تک تیرے متعلق ضرور تحقیر و تذلیل کا طریق اختیار کرے گا مگر وہ وقت آتا ہے کہ ہم تیرے مخالفوں کے طعن و تشنیع کو اس طرح مٹادیں گے کہ گویا وہ کبھی تھے ہی نہیں۔66