مضامین بشیر (جلد 2) — Page 15
۱۵ مضامین بشیر مسلمانوں کی اکثریت تو نہیں مگر کوئی دوسری مقامی قوم مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہنا چاہتی ہے اور یہ دونوں مل کر ا کثریت بن جاتے ہیں (یعنی آسام ) انہیں آئندہ دستور اساسی میں جس میں ہندوستان کو آزادی اور خود مختاری ملنے والی ہے۔ہندوستان کے باقی صوبوں سے علیحدہ اور مستقل حیثیت میں آزادی حاصل ہوتا کہ وہ کسی دوسری قوم کے ظاہری اور باطنی دباؤ کے بغیر اپنی حکومت کو جس طرح چاہیں اپنی ضروریات کے مطابق آزادانہ رنگ میں چلا سکیں۔اس طرح گویا ہندوستان کے شمال مغرب میں صوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ اور بلوچستان اور ہندوستان کے شمال مشرق میں صوبہ بنگال اور صوبہ آسام بقیہ ہندوستان سے الگ ہو جائیں گے۔یہی وہ دوہری سرزمین ہے جس کا نام نئی اصطلاح میں پاکستان رکھا گیا ہے اور جس کی مسلمان آبادی قریباً سات کروڑ تک پہنچتی ہے۔مسلم لیگ کا یہ مطالبہ ہے کہ یہ پاکستانی علاقہ باقی ماندہ ہندوستان سے کامل اور نقلی طور پر الگ اور آزاد کر دیا جائے اور چونکہ پاکستان کے دو بازو ایک دوسرے سے کافی دور اور منقطع ہیں ، اس لئے لیگ یہ بھی چاہتی ہے کہ انتظامی سہولت کے لئے شمال مغربی اور شمال مشرقی پاکستان کے درمیان اسے ایک کافی فراخ رستہ بھی دیا جائے جو گویا یو۔پی اور بہار میں سے ہوتا ہوا پنجاب اور بنگال کو ملا دے۔مسلم لیگ یعنی جمہور مسلمانوں کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ وہ آزادی کے بعد بہر صورت بقیہ ہندوستان سے جسے وہ موجودہ اصطلاح میں صرف ہندوستان کا نام دیتے ہیں کلی طور پر الگ رہیں گے بلکہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ جہاں تک بنیادی آزادی کا تعلق ہے پاکستانی صوبوں کو کامل اور مستقل طور پر خود مختار تسلیم کیا جائے۔پھر اگر بعد میں یہ پاکستانی صوبے ایک آزاد اور خود مختار حکومت کی حیثیت میں بقیہ ہندوستان کی حکومت کے ساتھ کوئی باہمی معاہدہ (تعاونی یا حفاظتی یا اقتصادی وغیرہ) کر کے آزاد حکومتوں والے اتحاد کی صورت پیدا کرنا چاہیں تو یہ اور بات ہے اور اس کے لئے مسلمانوں کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔اس کے مقابل پر کانگرس یعنی ہندو اکثریت کا یہ مطالبہ ہے کہ تمام ہندوستان ایک ملک ہے اور ایک ہی رہنا چاہیئے اور اس صورت کا نام وہ اکھنڈ ہندوستان رکھتے ہیں۔البتہ وہ اس بات کے لئے تیار ہیں کہ مسلمان صوبوں کو مناسب حفاظتی مراعات دے دی جائیں۔مگر ان کا دعوی ہے کہ ہندوستان کی مرکزی حکومت بہر حال ایک ہی رہنی چاہیئے اور اسے بعض خاص امور میں ( مثلاً فوج اور بیرونی تعلقات وغیرہ ) جن میں تمام ملک کے لئے اتحاد اور یکجہتی اور یکسانیت کی ضرورت ہے، صوبوں کے معاملہ میں دخل دینے اور انہیں ہدایات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہیئے۔البتہ جہاں تک عام اندورنی معاملات کا تعلق ہے صوبے آزاد ہوں گے اس صورت کا نام فیڈ ریشن رکھا جاتا ہے۔یعنی بہت سی نیم آزاد حکومتوں کا ایک واحد آزاد مرکزی نیا بتی حکومت کے ساتھ منسلک ہونا۔