مضامین بشیر (جلد 2) — Page 253
۲۵۳ مضامین بشیر ہے، اس کے ضروری اصولوں اور ضروری تفاصیل سے واقفیت پید کرنا ( ب ) محنت یعنی اپنے کام کو انتہائی محنت اور جانفشانی کے ساتھ ادا کرنا اور جو امانت یعنی اپنے فرائض منصبی کو دیانتدارانہ اصول کے ماتحت سر انجام دیں ، مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ عدل کے مفہوم کو صرف دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنے تک محدود سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ایک بہت وسیع لفظ ہے اور اس کا سب سے مقدم پہلو یہ ہے کہ اپنے کام کے ساتھ عدل کیا جائے یہ ایسا ہی محاورہ ہے جیسا کہ مثلاً ہم اردو میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے کام کا حق ادا کر دیا۔پس عدل کا سب سے ضروری پہلو یہ ہے کہ کام کے ساتھ عدل ہو جو شخص حکومت کا ایک عہدہ تو قبول کر لیتا ہے مگر اس کے فن سے واقفیت پیدا نہیں کرتا یا فن سے واقفیت تو پیدا کرتا ہے مگر محنت نہیں کرتا اور ستی میں اپنا وقت گزارتا ہے یا محنت بھی کرتا ہے مگر دیانتدارانہ رویہ نہیں رکھتا تو وہ قرآنی محاورہ کے مطابق ہرگز عدل پر قائم نہیں سمجھا جا سکتا۔( دوم ) عدل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ حکومت اور پبلک کے درمیان عدل کیا جائے یعنی حکومت کے لئے پبلک کا کوئی حق نہ مارا جائے اور پبلک کے لئے حکومت کے کسی حق پر دست درازی نہ کی جائے۔اسلام ہر طبقہ کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے جن میں حکومت بھی شامل ہے اور پبلک بھی۔پس جو حاکم حکومت کو خوش کرنے کے لئے پبلک کا حق مارتا ہے یا پبلک کو خوش کرنے کے لئے حکومت کی غداری کرتا ہے ، وہ ہرگز ایک عادل حاکم نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ اس نے ترازو کے دونوں پلڑوں کو برابر نہیں رکھا اور کبھی اسے ایک طرف جھکا دیا اور کبھی دوسری طرف۔پس کامل عدل میں حکومت اور پبلک کے درمیان عدل کرنا بھی شامل ہے۔(سوم) عدل کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ مختلف قوموں کے درمیان عدل کیا جائے۔ظاہر ہے کہ ہر حکومت میں مختلف قومیں اور مختلف پارٹیاں بستی اور شہریت کے حقوق رکھتی ہیں۔اور اگر مذہب سب کا ایک بھی ہو پھر بھی مذہب کی اندرونی تقسیم کے لحاظ سے اور اسی طرح سیاسی اور نسلی تفریق کی بناء پر مختلف قومیں اور مختلف پارٹیاں ہو سکتی ہیں۔یہ سب پارٹیاں ملک میں شہریت کے حقوق رکھتی اور حکومت کی وفادار ہوتی ہیں مگر ہو سکتا ہے کہ کوئی حاکم اپنے ذاتی رجحانات یا تعلقات کی وجہ سے کسی ایک قوم یا ایک پارٹی کی طرف زیادہ جھک جائے اور دوسروں کے حقوق کا خیال نہ کرے۔اس لئے اسلام عدل کے لفظ میں قوموں اور پارٹیوں کے حقوق کی طرف بھی اشارہ فرماتا ہے اور مسلمان حاکموں کو ہوشیار کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم کسی ایک قوم یا ایک پارٹی کی طرف نا واجب طور پر جھک کر دوسری قوم یادوسری پارٹی کے حقوق کو نقصان پہنچا دو۔