مضامین بشیر (جلد 2) — Page 237
۲۳۷ مضامین بشیر اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم میں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسی الثانی تمام پریزیڈنشان انجمن احمد یہ قادیان محلہ جات و دیہات ملحقہ قادیان و دیہات تحصیل بٹالہ و تحصیل گورداسپور کو اطلاع دیتا ہوں کہ متعدد دوستوں کے متواتر اصرار اور لمبے غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قیام امن کی اغراض کے لئے مجھے چند دن کے لئے لاہور ضرور جانا چاہئے۔کیونکہ قادیان سے بیرونی دنیا کے تعلقات منقطع ہیں اور ہم ہندوستان کی حکومت سے کوئی بھی بات نہیں کر سکتے۔حالانکہ ہمارا معاملہ اس سے ہے لیکن لاہور اور دہلی کے تعلقات میں تار اور فون بھی جا سکتا ہے۔ریل بھی جاتی ہے، ہوائی جہاز بھی جا سکتا ہے۔میں مان نہیں سکتا کہ اگر ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال صاحب پر یہ امر کھولا جائے کہ ہماری جماعت مذہباً حکومت کی وفادار جماعت ہے تو وہ ایسا انتظام نہ کریں کہ ہماری جماعت اور دوسرے لوگوں کی جو ہمارے ارد گرد رہتے ہیں ، حفاظت نہ کی جائے۔جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے بعض لوگ حکام پر یہ اثر ڈال رہے ہیں کہ مسلمان جو ہندوستان میں آئے ہیں ، ہندوستان سے دشمنی رکھتے ہیں۔حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ادھر اعلان ہوا اور ادھر فساد شروع ہو گیا۔ورنہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ مسلمان مسٹر جناح کو اپنا سیاسی لیڈر تسلیم کرنے کے باوجود ان کے اس مشورے کے خلاف جاتے کہ اب جو مسلمان ہندوستان میں گئے ہیں ، انہیں ہندوستان کا وفادار رہنا چاہئے۔غرض ساری غلط فہمی اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ یک دم فسادات ہو گئے اور صوبائی حکام اور ہندوستان کے حکام پر حقیقت نہیں کھلی۔ان حالات میں ، میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی جگہ جانا چاہئے جہاں سے دہلی و شملہ سے تعلقات آسانی سے قائم کئے جاسکیں اور ہندوستان کے وزراء اور مشرقی پنجاب کے وزراء پر اچھی طرح سب معاملہ کھولا جا سکے۔اگر ایسا ہو گیا تو وہ زور سے ان فسادات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔اسی طرح لاہور میں سکھ لیڈروں سے بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔جہاں وہ ضرور تا آتے جاتے رہتے ہیں اور اس سے بھی فساد دور کرنے میں مددمل سکتی ہے۔ان امور کو مدنظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں چند دن کے لئے لا ہور جا کر کوشش کروں۔شاید اللہ تعالیٰ میری کوششوں میں برکت ڈالے اور یہ شور و شر جو اس وقت پیدا ہورہا ہے دور ہو جائے۔