مضامین بشیر (جلد 2) — Page 207
۲۰۷ مضامین بشیر ابلیس کے مغویانہ وجود کے متعلق صحیح نظریہ کی تعیین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیصلہ بہر حال درست ہے مگر سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے حوالہ کی صحیح تشریح کیا ہے ۲۷ مارچ ۱۹۴۸ء کے الفضل میں میرا ایک مختصر سا مضمون ابلیس کے مغویا نہ وجود کے متعلق شائع ہوا تھا۔اس مضمون میں میں نے بعض قرآنی آیات سے یہ استدلال کیا تھا کہ بے شک تقدیر خیر وشر کا مسئلہ حق ہے اور بے شک انسان اپنے اعمال میں صاحب اختیار ہے کہ چاہے تو نیکی کا راستہ اختیار کرے اور چاہے تو بدی کے راستہ پر پڑ جائے۔اور بے شک یہ بات بھی درست ہے کہ ابلیس ایک نہایت درجہ مغوی وجود ہے جو حضرت آدم کے وقت سے لوگوں پر امتحان کا سامان مہیا کرتا چلا آرہا ہے وغیرہ۔مگر یہ کہ قرآن شریف کی آیات سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ابتدا سے ہی اسی غرض وغایت کے ماتحت پیدا کیا تھا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتا پھرے بلکہ اس کا مغوی بننا ایک بعد کا حادثہ ہے جو اس کی پیدائش کی غرض و غایت کے ساتھ لازم وملزوم کے طور پر نہیں ہے۔البتہ انسان کا صاحب اختیار ہونا اس کی پیدائش کے ساتھ لازم وملزوم ہے وغیرہ۔اس نظر یہ کو پیش کر کے میں نے علماء سلسلہ کو دعوت دی تھی کہ وہ اس اہم مضمون کے متعلق تحقیق کر کے اپنے مفید خیالات پیش کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آئینہ کمالات اسلام والے مضمون کو بھی دیکھ لیں۔جس میں ابلیس کے متعلق نہایت لطیف اور سیر کن بحث کی گئی ہے اور میں نے لکھا تھا کہ خواہ ہمارے ذاتی خیالات کچھ ہوں ، حق وہی ہے اور وہی رہے گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر لکھا ہے۔میری اس دعوت کے جواب میں بعض دوستوں نے خطوط کے ذریعہ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور تین مختصر سے مضمون اس مسئلہ کے متعلق الفضل میں بھی شائع ہوئے ہیں۔ایک مضمون عزیزم مرزا ظفر احمد سلمہ کے قلم سے ہے جس میں میرے نظریہ سے اختلاف کیا گیا ہے۔دوسرا مضمون عزیز میاں عباس احمد خان کے قلم سے بنے جس میں میرے نظریہ کی تائید کی گئی ہے۔تیسرا