مضامین بشیر (جلد 2) — Page 197
۱۹۷ مضامین بشیر انسانی زندگی کی چار اقسام ادنی حیوانی۔اعلیٰ حیوانی۔ادنی روحانی۔اعلیٰ روحانی) آپ کی زندگی کس قسم میں داخل ہے؟ ذیل میں کوئی مضمون پیش نہیں کیا جا رہا بلکہ یہ ایک محض مختصر سا نوٹ ہے۔تا ناظرین میں سے ہر سمجھدار شخص کے دل میں یہ نفسیاتی سوال پیدا کیا جا سکے کہ اس کی زندگی انسانی زندگی کی چارا مکانی اقسام میں سے کس قسم میں داخل ہے۔اور پھر جو لوگ زندگی کی نیچے کی سیڑھیوں میں رکے کھڑے ہیں وہ اوپر چڑھنے کی طرف متوجہ ہوں۔قرآن وحدیث کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے ( گو اس جگہ تفصیلی حوالوں کی ضرورت نہیں ) اور یہی نتیجہ بنی نوع انسان کے حالات کے عملی مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے کہ انسانی زندگی امکانی طور پر چار قسم کی ہوتی ہے اور ہر انسان اپنی چار قسم کی زندگیوں میں سے کسی ایک زندگی کے ماحول میں محصور نظر آتا ہے:۔(اول) پہلی قسم کی زندگی ادنی حیوانی زندگی ہے۔جس میں انسان کی توجہ صرف اپنے نفس یا اپنے قریبی رشتہ داروں کی مادی ضرورتوں اور نفسانی خواہشوں کے پورا کرنے میں منہمک رہتی ہے۔ایسے لوگ دنیا میں آتے ہیں۔کھاتے اور پیتے ہیں ، شادی کرتے اور اولاد پیدا کرتے ہیں۔اپنے اور اپنے اہل وعیال کی مادی یا نفسانی ضرورتوں کو پورا کرنے یا بہتر بنانے کے لئے جد و جہد کرتے ہیں اور جب موت آتی ہے تو اپنے بچوں کو اس سٹیج پر ایکٹ کرنے کے لئے اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔دُنیا میں علوم اور تہذیب و تمدن کی ترقی ان کے لئے ادنی مادی غرض کو بہتر بنانے کے ذریعہ کے سوا کوئی اور حقیقت نہیں رکھتی۔یہ وہ طبقہ ہے جس کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے کہ أو ليك كَالْاَ نْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ یعنی یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر کیونکہ جانور تو جانور ہی ہے مگر جب اشرف المخلوقات انسان اور احسن تقویم کا مالک بشر ادنی جانوروں کی سی زندگی اختیار کرتا ہے تو اس میں کیا شبہ ہے کہ وہ جانوروں سے بھی بدتر سمجھے جانے کا مستحق ہے۔