مضامین بشیر (جلد 2) — Page 195
۱۹۵ مضامین بشیر کر رہے تھے کہ کسی وجہ سے سیالکوٹ کو چلے گئے ہیں۔ہر شخص گھر میں ، دوکان پر ، بازار میں ، دفتر میں ، مرزا صاحب اور اُن کے دعوئی مماثلت مسیح کا ذکر کرتا ہے۔آج تک اخبارات نے کالم کے کالم اور ورقوں کے ورقے مرزا صاحب کے حالات اور عقائد کی تردید یا تائید میں لکھ ڈالے ہیں مگر ہم نے عمدا اس بحث کو نہیں چھیڑا جس کی بڑی وجہ یہ ہے۔پیسہ اخبار کوئی مذہبی اخبار نہیں مگر اب چونکہ معاملہ عام انٹرسٹ کا ہو گیا ہے۔کئی صاحبوں نے پیسہ اخبار کی رائے مرزا صاحب کے عقائد اور عام حالات کی نسبت دریافت کی ہے۔اس لئے ہم مختصر طور پر ایک دو باتیں ظاہر کرتے ہیں۔مرزا صاحب کے حق میں جو کفر کا فتوی دیا گیا ہے۔ہم کو اس سے سخت افسوس ہوا ہے کوئی مسلمان زنا کرے، چوری کرے، الحاد کا قائل ہو ،شراب پینے اور کوئی کبیرہ گناہ کرے، کبھی علمائے اسلام اُس کی تکفیر پر آمادہ نہیں سنے گئے۔مگر ایک با خدا مولوی کو جو قال اللہ اور قال الرسول کی تابعداری کرتا ہے۔بعض جزوی اختلافات کی وجہ سے کا فر گردانا جاتا ہے گر مسلمانی ہمیں است که واعظ دارد وائے گر از پس امروز بود فردائے ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر شخص مرزا صاحب کی ہر ایک بات کو تسلیم کرے۔لیکن یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے مولوی صاحبان اپنی اس لیاقت اور ہمت کو غیر مسلموں کے مقابلے میں صرف کریں۔جواب مرزا صاحب کے مقابلے میں صرف ہو رہی ہے۔هر کس از وست سعدی از غیر ناله کند خویشتن فریاد اہل اسلام مطمئن رہیں کہ مرزا صاحب اسلام کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور یہ بات ہمارے عقیدے کے مطابق ان کے اختیار سے بھی باہر ہے۔اگر اہلِ ہنود خصوصاً آریہ لوگ اور عیسائی لوگ مرزا صاحب کی مخالفت میں زور شور سے کھڑے ہو جاتے تو ایسا بے جانہیں تھا۔مرزا صاحب کی تمام کوششیں آریہ اور عیسائیوں کی مخالفت میں اور مسلمانوں کی تائید میں صرف ہوئی ہیں جیسا کہ ان کی مشہور تصنیفات براہین احمدیہ ، سرمہ چشم آریہ اور بعد کے رسائل سے واضح ہیں۔ہم اس کے سوائے اور کیا کہہ سکتے ہیں وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ - اس قدر لکھ دینا بھی نا مناسب نہ ہوگا کہ ہم ہرگز مرزا صاحب کے معتقدوں میں سے نہیں۔“ ( مطبوعه الفضل ۲۳ را پریل ۱۹۴۸ء)