مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 143 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 143

۱۴۳ مضامین بشیر جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ یہ ایک قسم کی لوٹ ہے جس کی اسلام کسی صورت میں اجازت نہیں دیتا۔پس جن لوگوں نے ایسی حرکت کی ہے۔اور ان کے پاس اپنے کسی بھائی کا مال موجود ہے تو انہیں چاہئے کہ بلا توقف یہ مال اس کے مالک کو پہنچاد میں اور اگر یہ مال ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے لیکن انہیں اس کا بدل پیدا کرنے کی توفیق ہے تو اس کے بدلہ میں اسی مالیت کا دوسرا مال پیش کر دیں اور اگر ان کے لئے یہ دونوں صورتیں ممکن نہیں تو کم از کم کچی ندامت کے ساتھ مالک سے معذرت کے خواہاں ہوں کہ انہوں نے اس اس قسم کے حالات کے ماتحت غلط استدلال میں مبتلا ہو کر ان کا مال ضائع کر دیا ہے۔دوسرا پہلو اس سوال کا یہ ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کر کے کہ سکھوں یا ہندوؤں نے ہمیں مشرقی پنجاب میں نقصان پہنچایا ہے۔مغربی پنجاب میں غیر مسلموں کا مال لوٹنے لگ جاتے ہیں یا اگر کسی غیر مسلم کے چھوڑے ہوئے مکان میں قیام کرتے ہیں تو اس کے سامان کو اپنے لئے جائز سمجھنے لگ جاتے ہیں۔یہ صورت بھی اسلامی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔اگر الف نے ہمیں یا ہمارے کسی عزیز کو نقصان پہنچایا ہے تو ہمارے لئے جائز نہیں کہ ب کو نقصان پہنچا کر بدلہ لینے کی کوشش کریں۔قرآن شریف صاف فرماتا ہے۔کہ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى۔یعنی ایک شخص کے گناہ کا بوجھ کسی صورت میں دوسرے شخص پر نہیں ڈالا جا سکتا۔پس صرف اس وجہ سے کہ مثلاً ایک سکھ لکھن سنگھ نامی نے مشرقی پنجاب میں ہمارا یا ہمارے کسی بھائی کا سامان لوٹا تھا ، ہمارے لئے یہ جائز نہیں کہ ہم مغربی پنجاب میں کسی دوسرے سکھ مکھن سنگھ نامی کا سامان لوٹ لیں۔یہ تمام باتیں اسلامی تعلیم اور اسلامی معیار دیانت کے خلاف ہیں اور ان باتوں میں غفلت برتنے سے آہستہ آہستہ قومی دیانت کا معیار گر جاتا ہے۔اسلام ہر حالت میں دیانت اور انصاف کے تر از وکو بلند رکھنا چاہتا ہے اور بے شک وہ شریر لوگوں کو ہوش میں لانے کے لئے انتقام کی اجازت دیتا ہے۔مگر وہ اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ جرم تو کرے زید مگر انتقام لیا جائے بکر سے یا بعض افراد کے جرم کی وجہ سے ساری قوم کو مجرم قرار دے دیا جائے اور کم از کم ہماری جماعت کے دوستوں کو اس قسم کے افعال سے پر ہیز کرنا چاہئے۔و اخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین۔نوٹ: اس مضمون میں صرف افراد کے سوال کو مدنظر رکھا گیا ہے۔حکومت یا جماعتی نظام کے معاملہ میں بعض مخصوص صورتیں پیش آسکتی ہیں، جن کے متعلق انشاء اللہ کسی اور موقع پر عرض کروں گا۔مطبوعه الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۴۷ء)