مضامین بشیر (جلد 2) — Page 131
۱۳۱ مضامین بشیر قادیان میں زمین خریدنے والوں کے لئے ضروری اعلان امتحان کے وقت میں اچھا نمونہ دکھانے کی کوشش کرو بعض احباب جنہوں نے قادیان میں زمین خریدی ہوئی ہے۔وہ موجودہ فسادات کے نتائج سے گھبرا کر مجھے لکھ رہے ہیں کہ آپ کے پاس ہمارا اتنا روپیہ امانت رکھا ہے وہ ہمیں واپس ادا کر دیا جائے۔میں شروع میں تو ایسے مطالبات پر حیران ہوا کہ یہ امانت کیسی ہے مگر بعد میں پتہ لگا کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ فی الحال قادیان کی زمینیں گو یا ضائع شدہ ہیں۔بعض لوگوں نے زمینوں کی ادا شدہ قیمتوں کو امانت کے طور پر ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔ایسے لوگ بے شک بہت کم ہیں۔بلکہ شائد ایک فی صدی سے بھی کم ہوں گے لیکن چونکہ بعض دوسرے کمزور لوگوں کے دلوں میں بھی اس قسم کا شبہ پیدا ہو سکتا ہے۔اس لئے میں تمام خریداران اراضی کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایسا مطالبہ نہ صرف کاروباری لحاظ سے غلط اور خلاف دیانت ہے بلکہ دینی اور روحانی لحاظ سے بھی ایک نہایت کمزور اور بودی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔کاروباری لحاظ سے یہ مطالبہ اس لئے غلط ہے کہ جب ایک رقم قیمت اراضی کے طور پر ادا کی گئی ہے تو پھر اسے امانت ظاہر کر کے اس کی واپسی کا مطالبہ کرنا دنیا کے کسی کا روباری اصول کے لحاظ سے بھی درست نہیں بلکہ دراصل یہ ایک قسم کا جھوٹ ہے جو اپنی خریدی ہوئی زمین کو بظاہر ضائع ہوتا دیکھ کر بعض کمزور طبیعتوں نے اپنے آپ کو نقصان سے بچانے اور اپنے نقصان کو فروخت کنندگان اراضی کی طرف منتقل کرنے کے لئے گھڑ لیا ہے۔ایسے لوگوں کو یا درکھنا چاہئے کہ یہ طریقے مال بچانے اور ترقی دینے والے نہیں ہیں بلکہ مال کو بد دیانتی کے چکر میں ڈال کر تباہ کرنے والے ہیں۔دینی اور روحانی لحاظ سے یہ مطالبہ اس لئے نہایت درجہ نا پسندیدہ اور فتیح ہے کہ اس مطالبہ کے پیچھے دراصل یہ خیال کام کر رہا ہے کہ گویا قادیان ہمارے ہاتھ سے ہمیشہ کے لئے چلا گیا ہے اور اب ہمیں کبھی واپس نہیں ملے گا۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ جس طرح بھی ہو اپنا نقصان بچانے کی کوشش کریں۔حالانکہ ہر وہ سچا احمدی جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان اور اخلاص ہے ، وہ اس یقین سے معمور ہونا چاہئے کہ قادیان انشاء اللہ ہمیں نہ صرف ضرور واپس ملے گا بلکہ تمام وہ وعدے جو خدا تعالیٰ