مضامین بشیر (جلد 1) — Page 41
مضامین بشیر فرق پڑ جاتا ہے۔پس با وجود ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اصولاً متفق ہونے کے کہ ایسی روایت اگر کوئی ہو تو یہ کمزور کبھی جانی چاہیئے۔میں نہایت یقین کے ساتھ اس بات پر قائم ہوں کہ اس وجہ سے ہم ایسی روایات کو بالکل ترک بھی نہیں کر سکتے کیونکہ اس طرح کئی مفید معلومات ہاتھ سے دینے پڑتے ہیں۔عمدہ طریق یہی ہے کہ اصول درایت سے تسلی کرنے کے بعد ایسی روایت کو درج کر دیا جائے اور چونکہ ان کا مرسل ہونا بد یہی ہوگا اس لئے ان کی کمزوری بھی لوگوں کے سامنے رہے گی۔اور مناسب جرح و تعدیل کے ماتحت اہل علم ان روایات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔احادیث کو ہی دیکھ لیجئے ان میں ہزاروں ایسی روایات درج ہیں جو اصول روایت کے لحاظ سے قابلِ اعتراض ہیں لیکن ان سے بہت سے علمی فوائد بھی حاصل ہوتے رہتے ہیں اور چونکہ ان کی روائتی کمزوری اہل علم سے مخفی نہیں ہوتی۔اس لئے ان کی وجہ سے کوئی فتنہ بھی پیدا نہیں ہوسکتا اور اگر کبھی پیدا ہوتا بھی ہے تو اس کا سدِ باب کیا جا سکتا ہے۔بہر حال مناسب حدود کے اندراندر مرسل روایات کا درج کیا جانا بشرطیکہ وہ اصول درایت کے لحاظ سے رڈ کئے جانے کے قابل نہ ہوں اور ان سے کوئی نئے اور مفید معلومات حاصل ہوتے ہوں بحیثیت مجموعی ایسا نقصان دہ نہیں جیسا کہ مفید ہے یعنی نفعها اكبر من اثمها والا معاملہ ہے۔والله اعلم۔یہ تو اصولی جواب ہے اور حقیقی جواب یہ ہے کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایسی روایتوں کے لینے میں بڑی احتیاط سے کام لیا ہے اور جہاں کہیں بھی مجھے یہ شبہ گذرا ہے کہ راوی اپنی روایت کے متعلق بلا واسطہ اطلاع نہیں رکھتا وہاں یا تو میں نے اس کی روایت لی ہی نہیں اور یا روایت کے اختتام پر روایت کی اس کمزوری کا ذکر کر دیا ہے۔اس وقت مجھے ایک مثال یاد ہے وہ درج کرتا ہوں مگر میں سمجھتا ہوں کہ تلاش سے اور مثالیں بھی مل سکیں گی۔سیرۃ المہدی کے صفحہ ۱۲۸ پر میں نے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی ایک روایت منشی احمد جان صاحب مرحوم مغفور لدھیانوی کے متعلق درج کی ہے اور اس کے آخر میں میری طرف سے یہ نوٹ درج ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی سید سرور شاہ صاحب منشی صاحب مرحوم سے خود نہیں ملے۔لہذا انہوں نے کسی اور سے یہ واقعہ سنا ہو گا۔“ میرے ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ میں نے اس بات کو مد نظر رکھا ہے کہ اگر راوی اپنی روایت کے متعلق بلا واسطہ علم نہیں رکھتا تو اسے ظاہر کر دیا جائے تا کہ جہاں ایک طرف روایت سے مناسب احتیاط کے ساتھ فائدہ اٹھایا جاسکے وہاں دوسری طرف اس کی کمزوری بھی سامنے رہے۔ڈاکٹر صاحب نے چونکہ اس جگہ کوئی مثال نہیں دی اس لئے میں نہیں سمجھ سکتا کہ کون سی روایت