مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 175 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 175

۱۷۵ مضامین بشیر کی جماعت کی زندگی رحمت کے نشانوں سے معمور ہے اور قیامت تک کے لئے خدا کا وعدہ ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے والوں اور آپ کی تعلیم پر چلنے والوں کو آسمان اور زمین کی نعمتوں سے مالا مال کرے گا اور ان پر رحمت کی بارشیں برسائے گا اور ان کو ایک پتیلی اور نازک کونپل کی طرح زمین سے نکال کر آہستہ آہستہ ایک عظیم الشان درخت بنا دے گا۔جس کی جڑیں زمین کی پاتال میں قائم ہوں گی اور شاخیں آسمان سے باتیں کریں گی اور اس درخت کے مقابلہ پر جو دراصل وہی درخت ہے جس کا بیج آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بویا تھا۔دنیا کی دوسری روئید گیاں گھاس بات سے زیادہ حیثیت نہیں رکھیں گی مگر جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے اور قدیم سے یہی ہوتا چلا آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار بھی مقدر تھا۔چنانچہ ابتدائے دعوئی میں ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے یہ الہام فرمایا کہ : - میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔آخری زمانہ کے ساتھ زلازل کی خصوصیت یہ زور آور حملے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے لئے مقدر تھے۔مختلف صورتوں میں آنے والے تھے مگر قرآن شریف اور کتب سابقہ کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کا ایک خاص قہری نشان زلزلوں کی صورت میں ظاہر ہونا تھا۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام آخری زمانہ کے متعلق اپنی آمد ثانی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس زمانہ میں قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھ آوے گی اور کال اور مری پڑے گی اور جگہ جگہ بھونچال آدیں گے۔۵ اسی طرح قرآن شریف آخری زمانہ کے عذابوں کا ذکر کرتا ہو ا فر ماتا ہے :- يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاحِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌ۔اَبْصَارُهَا خَا شِعَةٌ - ا یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں کی قسم کھا کر جو ایسے امور کے انتظام کے واسطے مامور ہیں ، فرماتا ہے کہ :- اس وقت زمین زلزلوں کے دھکوں سے لرزہ کھائے گی اور ایک کے بعد دوسرا زلزلہ آئے گا۔جس سے لوگوں کے دل دھڑ کنے لگیں گے اور آنکھیں خوف اور