مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 640 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 640

مضامین بشیر ۶۴۰ بات ثابت ہے کہ یہ آخری آدم جنہیں گذرے صرف چھ سات ہزار سال کا عرصہ ہوا ہے، نسلِ انسانی کے اول نہیں تھے بلکہ ان سے پہلے بھی کئی آدم گزر چکے ہیں۔جو اپنے اپنے دور کے آدم تھے اور اس طرح دنیا کی عمر صرف چھ سات ہزار سال نہیں رہتی بلکہ کروڑوں سال بن جاتی ہے۔چنانچہ اسلام کے بہت بڑے عالم محی الدین صاحب ابن عربی کی ایک روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں مذکور ہے کہ اس دنیا میں ایک لاکھ آدم گزرا ہے۔جن میں سے ہر ایک اپنے اپنے دور کا بانی تھا۔اس طرح ایک آدم کا اوسط زمانہ سات ہزار سال سمجھا جائے تو دنیا کی عمر ستر کروڑ سال بنتی ہے۔حالانکہ سائنس دانوں کی موجودہ تحقیق کے مطابق دنیا کی عمر ابھی تک صرف دس لاکھ سال ثابت ہوئی ہے اللہ اسی طرح بعض اوقات ظاہری تضاد کی یہ وجہ بھی ہو جاتی ہے کہ سائنس دانوں کی خیال آرائیوں کو سائنس کے ثابت شدہ حقائق سمجھ لیا جاتا ہے۔جیسا کہ مثلاً ڈارون کی مشہور ارتقائی تھیوری کو جس میں بندر کو انسانی نسل کا مورث اعلیٰ قرار دیا گیا ہے عوام الناس نے سائنس کی ثابت شدہ حقیقت سمجھ رکھا ہے۔حالانکہ واقف کارلوگ جانتے ہیں کہ یہ کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے۔بلکہ محض ڈارون کا تخیل ہے جو ایک تھیوری سے زیادہ وزن نہیں رکھتا۔اور بہت سے سائنس دان اس تھیوری سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔چنانچہ ذیل میں ولایت کی اس تازہ تار کا ترجمہ کیا جاتا ہے جو دنیا کے مشہور سائنس دان سرجان ایمبارس فلیمنگ کی وفات کے متعلق سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور میں شائع ہوئی ہے۔زیر عنوان ” دنیا کے مشہور سائنس دان اور موجد سر جان فلیمنگ کی وفات اخبار سول اس تار کا ایک حصہ یوں درج کرتا ہے۔دد گوسر جان ایمبارس فلیمنگ دنیا کا ایک بہت مشہور سائنس دان تھا مگر وہ کوئی وجہ نہیں دیکھتا تھا کہ معجزات کے وجود کا انکار کرے اور وہ ڈارون کی ارتقائی تھیوری کے خلاف اور بائیبل کی تائید میں بھی دوسروں کے پیش پیش تھا۔اور ڈارون کی تھیوری کو ایک دماغی تخیل سے زیادہ وقعت نہیں دیتا تھا۔‘۲۲ سر جان فلیمنگ جن کی ایجادات سے ریڈیو اور بجلی اور ٹیلیفون وغیرہ کی ترقی میں دنیا کو بھاری فائدہ پہنچا ہے اس شہادت میں اکیلا نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بہت سے دوسرے سائنسدان بھی یہ رائے ظاہر کر چکے ہیں کہ ڈارون کی تھیوری ایک محض خیالی چیز ہے۔جس کی تہہ میں کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں اور بہت سے سائنسدان خدا کی ہستی کے قائل اور مذہب کے پُر جوش مؤید گزرے ہیں مگر اس جگہ صرف اس تازہ شہادت پر اکتفا کی جاتی ہے۔( مطبوعه الفضل ۲۶ اپریل ۱۹۴۵ء)