مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 32 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 32

مضامین بشیر ۳۲ کہ گو کتاب کے دیباچہ میں یہ لکھا گیا ہے کہ فی الحال روایات کو صرف جمع کر دیا گیا ہے اور ترتیب اور استنباط واستدلال بعد میں ہوتا رہے گا لیکن عملاً خوب دل کھول کر بخشیں کی گئی ہیں اور جگہ جگہ استدلال واستنباط سے کام لیا گیا ہے۔چنانچہ ڈاکٹر صاحب موصوف فرماتے ہیں :۔مصنف صاحب کا دعوی ہے کہ میں نے صرف اس میں روایات جمع کی ہیں اور ترتیب اور استنباط کا کام بعد میں ہوتا رہے گا، مگر اسی کتاب میں صفحوں کے صفحے مختلف کتابوں مثلاً براہین احمدیہ، سیرۃ مسیح موعود مصنفہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ، پنجاب چیفس اور مختلف اخبارات سے نقل کئے ہیں اور مختلف مسائل پر خوب استنباط واستدلال سے کام لیا ہے۔“ اس اعتراض کے جواب میں سب سے پہلی بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے بہت سوچا ہے مگر میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ ڈاکٹر صاحب کا اس اعتراض سے منشاء کیا ہے۔یعنی وہ کونسا علمی نکتہ ہے جو اس اعتراض کے پیش کرنے سے ڈاکٹر صاحب موصوف پبلک کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔اگر میں نے یہ لکھا کہ ترتیب واستدلال کا کام بعد میں ہوتا رہے گا اور بفرض محال یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ اس سے میری مراد وہی تھی جو ڈاکٹر صاحب نے قرار دی ہے اور پھر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ میں نے اپنے اس بیان کے خلاف سیرۃ المہدی میں استدلال و استنباط سے کام لیا ہے۔پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کو چھیں بچیں ہونے کی کوئی وجہ نہیں تھی اور یہ ایسی بات ہرگز نہیں تھی جسے ڈاکٹر صاحب اپنے اصولی اعتراضات میں شامل کرتے۔میں اب بھی یہی کہوں گا کہ میں ڈاکٹر صاحب کی نیت کے خلاف کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن اس قسم کی باتیں خواہ نخواہ طبیعت کو بدظنی کی طرف مائل کر دیتی ہیں۔ناظرین غور فرمائیں کہ ایک طرف تو ڈاکٹر صاحب کو سیرۃ المہدی پر تنقید کرتے ہوئے اس کے اندر ایک خوبی بھی ایسی نظر نہیں آتی جسے وہ اپنے مضمون میں درج کرنے کے قابل سمجھ سکیں اور دوسری طرف اعتراضات کے مجموعہ کو دیکھا جائے تو ایسی ایسی باتیں بھی درج ہیں جن کو علمی تنقید سے کوئی بھی واسطہ نہیں اور غالباً صرف اعتراضات کی تعداد بڑھانے کے لیئے ان کو داخل کر لیا گیا ہے۔کیا یہ طریق عمل انصاف و دیانت پر مبنی سمجھا جا سکتا ہے؟ اگر میں نے یہ بات لکھی کہ اس کتاب میں صرف روایات جمع کر دی گئی ہیں اور استدلال بعد میں کیا جائے گا اور پھر دوران تحریر میں نے کہیں کہیں استدلال سے کام لے لیا تو میں پوچھتا ہوں کہ حرج کون سا ہو گیا اور وہ کون سا خطر ناک جرم ہے جس کا میں مرتکب ہوا ہوں اور جسے ڈاکٹر صاحب قابل معافی نہیں سمجھ سکتے۔اس تبدیلی کا اگر کوئی نتیجہ ہے تو صرف یہی ہے کہ ایک زائد بات جس کا میں نے ناظرین کو وعدہ نہیں دلایا تھا ایک حد تک ناظرین کو