مضامین بشیر (جلد 1) — Page 305
۳۰۵ مضامین بشیر ہماری مستورات نہ تو پرانی طرز کے قیدیوں والے پردہ کی پابند ہیں کہ انہیں اپنی چار دیواری سے باہر کی ہوا تک نہ لگے اور ڈولی وغیرہ کے سوا گھر سے باہر قدم رکھنا حرام ہو اور نہ ہی انہوں نے پردہ کی اسلامی حدود کو تو ڑ کر نئی روشنی کی بے پردگی کو اختیار کیا ہے لیکن بایں ہمہ ابھی تک ہماری جماعت میں بھی بعض طبقوں میں بعض باتوں کے متعلق کسی قدر اصلاح کی ضرورت ہے۔جس کی طرف ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو خاص توجہ دینی چاہیئے۔ان باتوں میں سے میں اس نوٹ میں صرف برقعہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔برقعہ اور اسلامی پرده برقعہ کے متعلق سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہیئے کہ برقعہ قطعاً اسلامی پردہ کا حصہ نہیں ہے اور اگر کوئی عورت برقعہ کو ترک کر کے صرف ایک عام چاردر کے استعمال پر کفائت کرے تو اسلامی تعلیم کے لحاظ سے اس پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔اسلام کی غرض صرف یہ ہے کہ عورت اپنی زینت کو ( یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ زینت میں بدن اور لباس ہر دو کی زینت شامل ہے اور اسی طرح قدرتی اور مصنوعی زینت ہر دو زینت کے مفہوم میں داخل ہیں ) غیر محرموں سے چھپائے خواہ یہ چھپانا چادر کے ذریعہ ہو یا کسی اور مناسب ذریعہ سے بلکہ حق یہ ہے کہ برقعہ بہت بعد کی ایجاد ہے۔جس زمانہ میں اسلامی تعلیم نازل ہوئی تھی اس زمانہ میں صرف چادر کا طریق رائج تھا اور مسلمان عورتیں چادر ہی کے ذریعہ اپنی زینت کو چھپا یا کرتی تھیں۔پس جب خود برقعہ ہی اسلامی پردہ کا حصہ نہ ہوا تو یہ سوال کہ برقعہ کیسا ہو اور کیسا نہ ہو۔اسے جہاں تک محض نفس برقعہ کا سوال ہے اسلامی تعلیم سے قطعاً کوئی سروکار نہیں ہے۔اگر ایک برقعہ اسلامی تعلیم کے منشاء کے مطابق عورت کی زینت کو چھپاتا ہے تو خواہ اس کی ساخت کیسی ہو وہ ایک بالکل جائز چیز ہو گا جس پر کسی شخص کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔اسی طرح برقعہ کے کپڑے اور اس کے رنگ کا سوال بھی ایک ایسا سوال ہے جس میں اسلام قطعا کوئی دخل نہیں دیتا۔پس جو لوگ محض برقعہ کے وجود پر یا اس کی ساخت پر یا اس کے رنگ پر اعتراض کرتے اور انہیں خلاف اسلام قرار دیتے ہیں ، وہ یقینی طور پر غلطی خوردہ ہیں۔جن کی رائے کی تائید میں کوئی صحیح سند نہیں مل سکتی اور ہمارے احباب کو اس قسم کے فضول اور تنگ نظری کے اعتراضوں سے بچنا چاہیئے۔خود برقعہ باعث زینت نہ ہو البتہ ایک بات ہے جو اس زمانہ کے بعض برقعوں کو اسلامی تعلیم کے لحاظ سے حد اعتراض کے