مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 92 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 92

مضامین بشیر لگتا ہے ۹۲ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جتنے بھی خلفاء راشدین ہوئے ہیں ان سب کی خلافت کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش از وقت علم تھا۔چنانچہ آپ کے اقوال میں صریح طور پر اس قسم کے اشارات موجود ہیں لیکن بایں ہمہ آپ نے اپنے حکم کے ذریعہ سے کسی کی خلافت کا فیصلہ نہیں فرمایا بلکہ خدا پر اس معاملہ کو چھوڑ دیا۔اور پھر خدا نے اپنے تصرف خاص سے ایسا انتظام فرمایا کہ لوگوں کے انتخاب کے ذریعہ سے وہی لوگ مسند خلافت پر قائم ہوتے گئے جن کی که پیش از وقت اس نے اپنے رسول کو خبر دی تھی۔پس خدا پر چھوڑ نے کے یہی معنی ہیں کہ ہونا تو وہی ہے جو خدا کا منشاء ہے اور جس کی عموماً پیش از وقت اس نے اپنے رسول کو خبر دے دی ہوتی ہے۔لیکن جس طرح خدا کے ہرامر میں ایک اختفاء کا پر دہ ہوتا ہے۔اسی طرح اس معاملہ میں یہ اخفاء کا پردہ رکھا جاتا ہے کہ خدا خود پس پردہ رہ کر لوگوں کی رائے کے ذریعہ سے اپنے ارادہ کو پورا فرما تا ہے۔اور یہی وہ خلافت کا راز ہے جسے ہمارے روٹھے ہوئے بھائیوں نے نہیں سمجھا اور فتنے کی رو میں بہہ گئے۔خلاصہ کلام یہ کہ اگر وہ گفتگو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے والدہ صاحبہ کے ساتھ فرمائی اس سے مشورہ حاصل کرنا مقصود نہ تھا تو اس کی تین غرضیں عقلاً مانی جاسکتی ہیں۔اول یہ کہ حضرت صاحب کا یہ منشاء تھا کہ سلسلہ کلام شروع کر کے اپنے خیال کا اظہار فرما دیں جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض موقعوں پر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی کی خلافت کی طرف اشارات فرمائے۔دوسرے یہ کہ آپ نے یہ گفتگو محض اس اردے سے کی تھی کہ والدہ صاحبہ کا خیال معلوم کریں کہ کیا ہے کیونکہ بعض اوقات محض دوسرے کی رائے کا علم حاصل کرنے کے لئے ایک بات پوچھی جاتی ہے۔اور تیسرے یہ کہ آپ نے والدہ صاحبہ کے امتحان اور تعلیم کے لئے ایسا کیا تھا۔تا کہ اگر وہ آپ کے سوال کے جواب میں یہ کہیں کہ ہاں محمود کو مقرر کر دیں تو آپ ان کو اس حقیقت سے مطلع فرمائیں کہ گو واقعہ کے لحاظ سے محمود نے ہی اپنے وقت پر آپ کا خلیفہ بننا ہو۔لیکن عام سنت اللہ کے مطابق اس سوال کو خدا کے تصرف پر چھوڑ دینا چاہیئے کہ وہ خود لوگوں کے انتخاب کے ذریعہ سے اپنے ارادے کو پورا فرمائے۔مگر چونکہ حضرت والدہ صاحبہ کے جواب سے آپ سمجھ گئے کہ وہ اس نکتہ سے آگاہ ہیں اور جانتی ہیں کہ آپ نے وہی کرنا ہے جو خدا کا منشا ء اور اس کی سنت ہے۔اس لئے آپ مطمئن ہو کر خاموش ہو گئے۔یہ تینوں صورتیں بالکل معقول اور حالات کے عین مطابق اور