مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 90 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 90

مضامین بشیر ۹۰ کوئی چیز با ہر ہے۔وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يُنْقَلِبُونَ - ۳۵ بات نہایت صاف اور معمولی تھی کہ حضرت صاحب نے کسی انگریز کے سوال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ پوچھتا تھا کہ جس طرح وہ لوگ جنہوں نے بڑے کاموں کی بنیاد ڈالی ہوتی ہے اپنے بعد اپنے کام کو جاری رکھنے کے لئے اپنا کوئی جانشین مقرر کر جاتے ہیں۔کیا اس طرح میں نے بھی کوئی اپنا قائمقام مقرر کیا ہے اور پھر یہ ذکر کرنے کے بعد آپ نے والدہ صاحبہ سے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کیا میں محمود کو مقرر کر دوں۔جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ جس طرح مناسب خیال فرماتے ہیں کریں۔اب اس بات پر یہ شور و پکار پیدا کرنا کہ لیجیو دوڑ یو اندھیر ہو گیا سارے سلسلہ کا انتظام بیوی کے ہاتھ میں دیا جارہا ہے اور قطعا کوئی اہلیت اور قابلیت نہیں دیکھی جاتی۔ڈاکٹر صاحب کے معاندانہ تخیل کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے۔افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے قطعاً غور سے کام نہیں لیا۔اور خوامخواہ اعتراض پیدا کرنے کی راہ اختیار کی ہے۔اول تو روایت کے اندر کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جاوے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت والدہ صاحبہ کے ساتھ یہ بات مشورہ حاصل کرنے کے لئے کی تھی۔بسا اوقات ہم دوسرے سے ایک بات پوچھتے ہیں اور اس میں قطعاً مشورہ لینا مقصود نہیں ہوتا بلکہ یا تو اس طرح گفتگو کا سلسلہ جاری کر کے خود اپنے کسی خیال کا اظہار مقصود ہوتا ہے اور یا محض دوسرے کا خیال معلوم کرنے کی غرض سے ایسا کیا جاتا ہے۔یعنی صرف دوسرے کی رائے کا علم حاصل کرنا مطلوب ہوتا ہے کہ وہ اس معاملہ میں کیا خیال رکھتا ہے اور یا بعض اوقات جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے بھی لکھا ہے دوسرے کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ آیا وہ اس معاملہ میں درست رائے رکھتا ہے یا نہیں تا کہ اگر اس کی رائے میں کوئی خامی یا نقص ہو تو اس کی اصلاح کر دی جائے۔اور ان تینوں صورتوں میں سے ہر اک صورت یہاں چسپاں ہو سکتی ہے۔یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ منشاء ہو کہ اس طرح گفتگو کا سلسلہ شروع کر کے اشارہ اپنے خیال کا اظہار فرمائیں کہ میری رائے میں محمود میرا جانشین ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اپنے سوال سے محض حضرت والدہ صاحبہ کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہوں اور بس۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کو حضرت والدہ صاحبہ کی تعلیم مقصود ہو۔یعنی یہ ارادہ ہو کہ اگر ان کی طرف سے کسی غلط رائے کا اظہار ہو تو آپ اس کی اصلاح فرمائیں اور اس حقیقت کو ظاہر فرمائیں۔کہ خلافت کے سوال کو کلیۂ خدا پر چھوڑ دینا چاہیئے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا۔اور تعجب ہے کہ مطبوعه الفضل ۳۱ اگست ۱۹۲۶ء