مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 654 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 654

مضامین بشیر ہمارا پاک قرآن اور پاک اسلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئی جگہ لکھا ہے اور بار ہا ذکر بھی فرماتے تھے کہ قرآن شریف چونکہ خدا کی آخری شریعت ہے اس لئے اسے ایک روحانی علم کے رنگ میں بنایا گیا ہے۔جس کے اندر بے شمار علمی اور روحانی خزا نے مخفی ہیں۔جو حسب ضرورت زمانہ اور حسب استعداد مفکرین ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔بلکہ جس طرح ہمارا مادی عالم ہر زمانہ کی مادی ضروریات کو پورا کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔حتی کہ حضرت آدم اور حضرت نوح اور حضرت ابرا ہیم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے زمانہ میں بھی یہی مادی عالم دنیا کی محدود اور سادہ ضرورتوں کا ذخیرہ تھا۔اور اب موجودہ ترقی یافتہ دنیا کی وسیع اور گونا گوں ضرورتوں کا سامان بھی اسی مادی عالم میں سے نکلتا چلا آ رہا ہے۔اسی طرح یہ روحانی عالم یعنی قرآن مجید بھی تمام زمانوں کی روحانی ضروریات کو اپنے اندر لئے ہوئے ہیں۔جو مَانُنَزِّلُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوم ۲۸ کے اصول کے ماتحت ہر زمانہ کی حاجت کے مطابق ظاہر ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ امسیح اول رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کثیر التعداد علمی اور روحانی خزانوں کو ظاہر فرمایا ہے۔جو موجودہ زمانہ کے لئے ازل سے قرآن شریف کے اندر ودیعت کئے گئے تھے۔اور یہ سلسلہ انشاءاللہ سچے مومنوں کے ساتھ قیامت تک چلتا چلا جائے گا۔اسی تعلق میں ایک چھوٹا سا تازہ واقعہ احباب کی دلچسپی کے لئے درج کرتا ہوں کہ کس طرح قرآن شریف کے مختصر اور بظاہر سادہ الفاظ میں وسیع معانی مخفی ہوتے ہیں۔گزشتہ رمضان کے مہینہ میں جبکہ میں ڈلہوزی میں ایک دن غروب آفتاب کے قریب قرآن شریف کی تلاوت کر رہا تھا تو میں نے اس تلاوت کے دوران میں سورہ بلد کی مندرجہ ذیل آیات بھی پڑھیں :- الَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ وَلِسَانًا وَّ شَفَتَيْن وَهَدَيْنَهُ النَّجْدَيْنِ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ فَى رَقَبَةٍ أَوْ إِطْعَمْ فِي يَوْمٍ ذِى مَسْغَبَةٍ يَّتِيمًا ذَامَقْرَبَةً أَوْ مِسْكِينًا ذَامَتْرَبَةٍ ۲۹ یعنی کیا ہم نے انسان کو دو آنکھیں نہیں دیں۔اور ایک زبان اور دو ہونٹ عطا نہیں