مضامین بشیر (جلد 1) — Page 648
مضامین بشیر ۶۴۸ چند روز قبل میں اسے عیدی دینے لگا تو وہ مجھ سے ادہراد ہر چھپتی پھرتی تھی۔آخر میں نے اسے ایک کمرہ کے کونے میں پکڑ کر عیدی دی۔اس وقت وہ تھوڑا سا مسکرائی مگر منہ سے کچھ نہیں کہا۔خدا اس کی روح کو جنت میں ابدی راحت عطا کرے اور اس کے والدین اور بہن بھائیوں کو خدا کی رضا کے رستہ پر چلتے ہوئے صبر جمیل کی توفیق دے اور اسے ان کے لئے فرط بنائے آمین اب میں مختصر طور پر اس استہزاء کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جو مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض غیر احمدی اور غیر مسلم حلقوں میں اس واقعہ پر کیا گیا ہے مگر انصاف اور شرافت کا یہ تقاضا ہے کہ اس استہزاء کے جواب سے قبل میں اس شریفانہ سلوک کا اعتراف کروں جو اس حادثہ پر ڈلہوزی اور دوسرے مقامات پر ہم سے بالعموم کیا گیا۔میں نہیں کہہ سکتا آیا ہمارے متعلق بعض لوگوں کی ذہنیت میں کوئی تبدیلی پیدا ہو رہی ہے یا یہ کہ یہ اس غیر معمولی ہمدردی اور اعانت کے سلوک کا نتیجہ تھا جو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس موقع پر دوسرے مجروحین کے ساتھ کیا گیا۔مگر بہر حال یہ امر واقع ہے کہ ڈلہوزی میں غیر احمدی مسلمان اور ہندو اور سکھ شرفا عموماً اس صدمہ میں ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے ، جو ان کے چہروں اور ان کے الفاظ سے ظاہر تھی اور بہت سے لوگ اظہار ہمدردی کے لئے ہمارے گھروں پر بھی آئے اور رسمی طریق پر ہمدردی کا اظہار کیا۔میں موتی شعبہ کی کوٹھی تیسرا ہال میں اپنی چھوٹی ہمشیرہ کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا۔وہاں اُس پاس کی قریباً تمام ہمسایہ عورتوں نے جو ہر مذہب وملت اور اچھے اچھے گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں ہماری ہمشیرہ کے پاس آکر ہمدردی کا اظہار کیا اور بعض تو کئی کئی دفعہ آئیں۔ہم ان سب کے شکر گزار ہیں۔کیونکہ ہمارا پیارا مذہب ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ من لم يشكر الناس لم يشكر الله ۲۵ یعنی جو شخص انسانوں کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ خدا کا شکر گزار بھی نہیں ہوسکتا۔مگر کسی قوم کے سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔چنانچہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حلقوں میں اور خصوصاً لاہور کے ایک غیر احمدی اخبار میں اس حادثہ کو ہمارے خلاف ہنسی اور طعن کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔اصولاً ہمیں کسی کے طعن و تشنیع کی پروا نہیں کیونکہ یہ وہ پرانا کھیل ہے۔جو بدفطرت لوگ ہمیشہ سے کھیلتے آئے ہیں مگر ایک اصولی اعتراض کا جواب ضروری ہے۔جو بعض نا واقف لوگوں کے دل میں شبہ پیدا کر سکتا ہے۔اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ بجلی کے گرنے سے مرنا گویا ایک عذاب کا نشانہ بننا ہے اور اس طرح قدسیہ مرحومہ کی وفات گویا ہمارے جھوٹا ہونے کی ایک دلیل ہے وغیرہ وغیرہ۔میں نے خود یہ اعتراض نہیں پڑھا مگر سنتا ہوں کہ لاہور کے ایک اخبار میں اس قسم کا اعتراض شائع ہوا ہے۔بعض لوگوں کی زبان پر اس کا چرچا ہے۔مگر جیسا کہ ابھی ظاہر ہو جائے گا یہ اعتراض بالکل بودا اور سراسر جہالت پر مبنی