مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 647 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 647

۶۴۷ مضامین بشیر۔حضرت عمر نے آپ کو اس حالت میں دیکھا تو لپک کر آپ کے جسم سے مٹی جھاڑی اور آبدیدہ ہوکر عرض کیا، یا رسول اللہ قیصر و کسریٰ اپنے محلات میں کس آرام و آسائش کی زندگی گزارتے ہیں اور خالق کونین کا رسول کس حال میں ہے؟ آپ نے فرمایا تم یہ کیا کہتے ہو؟ بخدا مجھے اس زندگی کی نعمتوں سے اس سے زیادہ سروکار نہیں۔جتنا کہ ایک ایسے مسافر کو اپنے گرد و پیش سے ہوتا ہے۔جو راستہ چلتے ہوئے گھڑی دو گھڑی کے لئے کسی درخت کے سایہ میں بیٹھ جاتا ہے۔اور پھر اٹھ کر اپنی راہ لیتا ہے ۲۴۔ہماری قدسیہ بھی اس پاک رسول کی ایک ادنی کنیز تھی تو پھر اس کی روح عالم بالا میں اس نظارہ پر کیوں نہ خوش ہوئی ہوگی۔مگر میں اپنے اصل مضمون سے ہٹ گیا۔میں یہ بتا رہا تھا کہ ہم قدسیہ مرحومہ کو ساتھ لے کر ڈلہوزی کی طرف روانہ ہوئے اور چونکہ مرحومہ موصیہ تھی۔اس لئے اس کے حق میں اپنی آخری ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے فوراً قادیان کی تیاری شروع کر دی اور قدسیہ کی والدہ اپنے غم کو دبا کر واپسی کی تیاری میں مصروف ہو گئی۔چنانچہ دوسرے دن صبح حضرت صاحب نے اپنی ڈلہوزی کی کوٹھی بیت الفضل کے صحن میں نماز جنازہ پڑھائی اور نو بجے کے قریب ہم لوگ جنازہ کو لے کر روانہ ہو گئے اور غروب آفتاب سے قبل قادیان پہنچ گئے۔جہاں ایک بھاری مجمع نے دوسری نماز جنازہ کے بعد مرحومہ کو بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کے قریب اس کی دادی کے پہلو میں جوا سے اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتی تھیں خدائی رحمت کے فرشتوں کے ہاتھوں میں سونپ دیا۔قدسیہ نہائت شریف اور نیک اور کم سخن لڑکی تھی۔اور دنیا کی زیبائشوں کے ساتھ اسے کبھی بھی شغف نہیں ہوا۔چنانچہ جب کبھی اس کی والدہ اس کے لئے کوئی اچھی چیز تیار کرتی تو اکثر کہا کرتی تھی کہ مجھے ضرورت نہیں صبیح (اس کی چھوٹی بہن) کو دے دو، نماز کی بہت پابند اور خود اپنے شوق سے وصیت کی تھی۔خواب بین بھی تھی۔چنانچہ اس نے وفات سے کئی سال پہلے اپنی یہ خواب سنائی تھی کہ پہلے مبارک (اس کا چا زاد بھائی ) کی وفات ہوگی اور پھر اس کی اماں جان ( یعنی دادی ) کی وفات ہوگی اس کے بعد خود اس کی اپنی وفات ہو گی۔چنانچہ بعینہ اسی طرح ہوا۔ویان کنڈ کے ٹرپ میں اس نے اپنی آخری نماز بڑے شوق اور رقت کے ساتھ ادا کی اور اس نماز کے ایک دو گھنٹہ بعد اپنے دائگی آقا و مالک کے قدموں میں جا پہنچی۔وفات کے وقت اس کی عمر بیس سال کے قریب تھی مگر ابھی غیر شادی شدہ تھی اور شادی کی طرف اسے چنداں رغبت بھی نہیں تھی۔اکثر اوقات علیحدگی میں بیٹھ کر دعا کرتے ہوئے روتی رہتی تھی اور اپنی والدہ سے کہا کرتی تھی۔کہ آپ میری کوئی فکر نہ کیا کریں۔میں نے ساری عمر میں اس کے منہ سے بمشکل چند گنتی کے الفاظ سنے ہوں گے۔گذشتہ عید کے موقع پر یعنی اس کی وفات سے صرف