مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 639 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 639

۶۳۹ مضامین بشیر سائنس دان معجزات کے منکر نہیں اور نہ ڈارون کی تھیوری کے قائل ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سائنس کے ساتھ مذہب کا کوئی حقیقی ٹکراؤ ممکن نہیں کیونکہ سائنس خدا کا فعل ہے جو دنیا میں عمل کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور مذہب اس کا قول ہے۔جو وحی والہام کے ذریعہ اس کے منشاء کو ظاہر کرتا ہے۔اور جب ایک معمولی عقلمند انسان کے قول و فعل میں بھی تضاد نہیں ہو سکتا۔تو خدا جیسی علیم و حکیم ہستی کے قول و فعل میں تضاد کس طرح ممکن ہے۔پس اگر کسی بات میں مذہب اور سائنس کے درمیان بظاہر تقضا نظر آئے تو اسے حقیقی تضاد نہیں سمجھنا چاہیئے۔بلکہ ایسا تضا دصرف اس وجہ سے نظر آتا ہے کہ بعض اوقات کو تاہ بین لوگ ایسی باتوں کو بھی سائنس کے ثابت شدہ حقائق سمجھنے لگ جاتے ہیں جو دراصل ثابت شدہ حقائق نہیں ہوتے بلکہ محض تھیوریاں یعنی سائنس دانوں کی خیال آرائیاں ہوتی ہیں جن کی بنیاد مشاہدہ پر نہیں ہوتی بلکہ صرف تخیل پر ہوتی ہے۔جس میں بعض اوقات سائنس دان بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ان کے دل میں بھی کبھی کبھی فلسفیوں کی طرح دماغی خیال آرائی کا شوق چراتا ہے۔اس حصہ کو تھیوری کہتے ہیں۔جسے کسی عظمند کے نزدیک وہ وزن حاصل نہیں ہوتا جو ایک ثابت شدہ حقیقت کو حاصل ہے لیکن بعض اوقات نا واقف لوگ غلطی سے سائنس دانوں کے اس قسم کے خیالات کو بھی سائنس کے ثابت شدہ حقائق سمجھنے لگ جاتے ہیں۔اور پھر انہیں مذہب کے خلاف پا کر شکوک میں مبتلا ہونے لگتے ہیں۔ورنہ دراصل سائنس اور مذہب میں کوئی حقیقی ٹکراؤ نہیں کیونکہ دونوں کی بنیا د مشاہدہ پر ہے اور مشاہدہ میں ٹکراؤ ناممکن ہوتا ہے۔پس جب کبھی بھی مذہب و سائنس میں ٹکراؤ نظر آئے وہ لازماً ظاہری ہوگا۔جو صرف اس وقت نظر آتا ہے جب یا تو سائنس کی کسی غیر ثابت شدہ حقیقت کو جو محض تھیوری کا رنگ رکھتی ہے ، غلطی سے ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے اور یا مذہب کی کسی تعلیم کے سمجھنے میں غلطی لگ جاتی ہے۔اور جو بات مذہب نہیں پیش کرتا اسے غلطی سے مذہب کا حصہ قرار دے لیا جاتا ہے۔جیسا کہ مثلاً دنیا کی عمر کے متعلق بعض پیروان مذاہب نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف چھ سات ہزار سال ہے۔یعنی جب سے کہ ہمارے آخری آدم کی پیدائش ہوئی بس اسی وقت سے اس دنیا کا آغاز ہوا ہے۔حالانکہ اسلامی تعلیم کی رو سے یہ