مضامین بشیر (جلد 1) — Page 638
مضامین بشیر ۶۳۸ تیسرا دائرہ سائنس کا ہے۔جسے اس زمانہ میں غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی ہے۔چونکہ سائنس کی بعض ایجادات یا بعض نظریے اسلام کے خلاف سمجھے جاسکتے ہیں۔اس لئے اس کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے۔الغرض اس وقت ہمارے لئے معین مذہبی تعلیمات کو چھوڑ کر تین مقابلے درپیش ہیں۔ان میں سے بعض تو حقیقی ہیں اور بعض خیالی لیکن بہر حال ان تینوں کا مقابلہ کرنا اس مجلس کا کام ہے۔پہلا دائرہ جو اقتصادیات کا دائرہ ہے ایک عملی دائرہ ہے۔جس کا اسلام اور احمدیت سے بھاری مقابلہ ہے۔ہمیں اس کے مقابل پر وہ نظام پیش کرنا ہے جو اسلام پیش کرتا ہے اور اُسے غالب کر کے دکھانا ہے۔دوسرا دائرہ جو فلسفہ سے تعلق رکھتا ہے۔ایک قولی مقابلہ ہے۔یہ لوگ فلسفے کے چند نظریے پیش کرتے ہیں جو بعض صورتوں میں اسلامی تعلیموں کے ساتھ سخت ٹکراتے ہیں۔ہمیں ان کے مقابلہ میں اسلام کے نظرئیے پیش کرنے اور ان کی فوقیت ثابت کرنی ہے۔تیسرا حلقہ سائنس کا حلقہ ہے۔اس حلقہ کا مذہب کے ساتھ کوئی حقیقی ٹکراؤ نہیں ہے۔کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے سائنس خدا کا فعل ہے اور مذہب خدا کا قول ہے مگر چونکہ بعض لوگ کو تاہ بینی کی وجہ سے غیر ثابت شدہ حقائق کو ثابت شدہ حقائق سمجھ کر اعتراض کر دیتے ہیں اس لئے اس کے مقابلہ کی بھی ضرورت ہے۔تین دائرے ہیں ایک عملی دوسرا قولی تیسرا خیالی یعنی غیر حقیقی جن کے مقابلہ کے لئے ہے مجلس مذ ہب و سائنس‘ قائم ہوئی ہے۔اس وقت جو لیکچر ہوگا وہ اقتصادیات کے حلقہ سے تعلق رکھتا ہے۔غرض اس کی یہ ہے کہ بتایا جائے کہ اقتصادیات کے نظام سے مراد کیا ہے۔اور اس وقت کونسی نئی اقتصادی تحریکات دنیا میں چل رہی ہیں۔چونکہ یہ ایک عملی سوال ہے۔اس لئے آج کل کی بیشتر سیاسی تحریکات بھی اسی مسئلہ کے ساتھ لپٹی ہوئی ہیں۔آج کا مضمون کوئی تحقیقی مضمون نہیں ہے۔بلکہ اس کا مقصد صرف اس مسئلہ کے ساتھ عام تعارف پیدا کرانا ہے۔یہ غالباً ایک لمبا مضمون ہے۔جو ایک وقت میں بیان نہیں ہوسکتا۔اس لئے شروع میں صرف ایک عام تعارف کرا دیا جائے گا۔اور اس کے بعد ایک ایک تحریک کو لے کر علیحدہ علیحدہ بیان کیا جائے گا۔اب میں ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنا لیکچر شروع کریں۔لیکچر کے اختتام پر سوالات کی اجازت دی جائے گی مگر میں یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ سوالات صرف تشریح و توضیح کے خیال سے ہونے چاہئیں۔بالمقابل بحث کا رنگ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔( مطبوعه الفضل ۲۵ اپریل ۱۹۴۵ء)