مضامین بشیر (جلد 1) — Page 637
۶۳۷ مضامین بشیر مجلس مذہب و سائنس کے کام کا حلقہ مجلس مذہب و سائنس کا پہلا پبلک جلسه ۲۹ ماه امان ( مارچ ) ۱۳۲۴ھ کو مسجد اقصیٰ میں منعقد ہوا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صدر مجلس مذہب و سائنس نے تمہیدی تقریر کرتے ہوئے فرمایا : - چونکہ آج کا جلسہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی قائم کردہ ”مجلس مذہب وسائنس کا پہلا جلسہ ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ہم اسے دعا کے ساتھ شروع کریں (دعا کے بعد ) جیسا کہ اکثر دوستوں کو ” الفضل“ کے اعلان سے معلوم ہو چکا ہوگا۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے ماتحت قادیان میں ایک نئی مجلس قائم کی گئی ہے۔جس کا نام ” مجلس مذہب وسائنس ہے۔یہ نام کو مختصر ہے مگر اس مجلس کا کام نہائت وسیع اور اہم ہے۔جیسا کہ دوست جانتے ہیں سلسلہ احمدیہ کے کام کا دائرہ اب آہستہ آہستہ بہت وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے۔جس طرح سمندر میں پہلے ایک لہر اٹھتی ہے، پھر دوسری اور پھر تیسری اور اس طرح لہروں کا حلقہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔اسی طرح خدائی سلسلہ بھی روز بروز بڑھتا ہے اور اپنے حلقہ کو وسیع کرتا جاتا ہے۔شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہماری ابتدائی بحث قریباً نوے فیصدی وفات مسیح کے مسئلہ پر ہوا کرتی تھی۔پھر صداقت مسیح موعود کے مسئلہ پر زور شروع ہوا۔پھر نبوت کے مسائل پر بحث کا دور آیا اور ساتھ ساتھ دوسری قوموں کے ساتھ مقابلہ بڑھتا گیا اور اب آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ وہ وقت لا رہا ہے۔جبکہ احمدیت کا ساری دنیا کے ساتھ ٹکراؤ ہونے والا ہے۔اور اس کے نتیجہ میں ہی اسے انشاء اللہ عالمگیر فتح حاصل ہوگی۔پس ضروری ہے کہ اب دنیا کی مختلف تحریکات کے مقابلہ کا انتظام کیا جائے۔اس وقت دنیا میں مختلف خیالات کی روچل رہی ہے۔یا بالفاظ دیگر مختلف نظام دنیا کی نجات کے لئے پیش کئے جار ہے ہیں۔یہ نئی تحریکات اس وقت اصولاً تین دائروں کے اندر محدود ہیں۔پہلا دائرہ اقتصادیات کا ہے۔جس میں دولت کے پیدا کرنے کے ذرائع اور دولت کی تقسیم کے اصول پر بحث کی جاتی ہے اور ہر قوم اپنے اپنے نظام کی فوقیت ثابت کرتی ہے۔اس دائرہ میں اس وقت سب سے نمایاں تحریک اشتراکیت کی تحریک ہے۔دوسرا دائرہ فلسفہ کا ہے۔یہ گو عمل کے میدان میں نہیں ہے مگر اپنے فاسد خیالات کی وجہ سے بڑی گمراہی کا باعث بن سکتا ہے۔