مضامین بشیر (جلد 1) — Page 636
مضامین بشیر ۶۳۶ یہ مسجد چھت کے اوپر واقع ہے۔جس کے نیچے دفاتر اور گلیاں وغیرہ ہیں اور اس کے اوپر تیسری منزل پر مسجد کا صحن ہے۔جہاں گرمیوں میں نماز ہوتی ہے۔اس آخری توسیع کو اس خصوصیت کے علاوہ کہ یہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہتعالی کی ذاتی تجویز پر ذاتی تحریک سے جمع شدہ چندہ سے تعمیر ہوئی ہے۔یہ خصوصیت بھی حاصل ہے۔(اور دراصل یہ ایک عجیب توارد ہے ) کہ اس کی تعمیر گو یا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے دعویٰ مصلح موعود کے ساتھ بطور توام یعنی جوڑیں بچہ کے پیوستہ ہے۔یعنی جس طرح مسجد مبارک کی ابتدائی تعمیر کے ساتھ مصلح موعود کی پیشگوئی کے اعلان کا جوڑ تھا۔اسی طرح اس آخری توسیع کو اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے ساتھ جوڑ ہے۔کیونکہ ادھر خدا نے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ پر اس پیشگوئی کے مورد ہونے کا انکشاف فرمایا اور ادھر آپ کے دل میں اس مسجد کی توسیع کا خیال پیدا کر دیا۔الغرض قادیان کی یہ چھوٹی سی مسجد ایک عجیب و غریب شان رکھنے والی اور ایک نادر مجموعہ برکات ہے مگر روحانی برکتیں ایک چشمہ کا رنگ رکھتی ہیں۔اور کسی چشمہ کے اندر خواہ کتنا ہی پانی ہو اس سے سیراب ہونے کے لئے بعض خارجی باتوں کی بھی ضرورت ہوا کرتی ہے۔اور روحانی برکتوں سے فیضیاب ہونے کے لئے خصوصیت سے ضرورت ہے انسان کی طرف سے شوق وطلب کی اور خدا کی طرف سے تو فیق و فضل کی اور خوش قسمت ہے وہ ہاں کیا ہی خوش قسمت ہے وہ جسے یہ دونوں باتیں نصیب ہو جائیں۔واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین۔مطبوعه الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۴۵ء)