مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 621 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 621

۶۲۱ مضامین بشیر علاوہ ہو گی۔اور یہ سارے محاصل غریبوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے خرچ کیے جائیں گے۔یہاں یہ بات قابل نوٹ ہے کہ میں نے اس جگہ قرآنی لفظ کنز اور حدیث کے لفظ ر کاز کو ایک ہی معنوں میں استعمال کیا ہے کیونکہ دراصل لغوی وضع کے لحاظ سے وہ قریباً ہم معنی ہیں۔اور قرآن شریف نے بھی سورۃ کہف کی آیت ۸۳ میں کنز کے لفظ کو رکاز کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔کیونکہ دونوں الفاظ کا حقیقی مفہوم یہی ہے کہ بند شدہ خزانہ۔پس میرے نز دیک رکاز جس پر حدیث نے ہیں فیصدی ٹیکس لگایا ہے۔اس کے وسیع معنوں کے لحاظ سے قرآنی کنز بھی اس کے اندر شامل سمجھا جائے گا۔واللہ اعلم ( ۵ ) زکوۃ کا نظام چونکہ اسلامی رکنوں میں سے ایک بھاری رکن ہے جس میں غرباء کی بہبودی اور ملکی دولت کی بہتر تقسیم مد نظر ہے۔اس لئے اسلام نے حکم دیا ہے کہ اگر کوئی شخص زکوۃ ادا کر نے سے انکاری ہو تو وہ اس سے زبر دستی وصول کی جائے خواہ اس غرض کے لئے اس سے لڑنا پڑے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : - " وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا اَخِذُوْهَا ۵ یعنی اگر کوئی شخص زکوۃ نہیں دیتا تو ہم اس سے زبر دستی لیں گے۔اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زکوۃ کے منکر کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا ہے۔(۶) اسلام یہ بھی حکم دیتا ہے کہ جب زکوۃ کا مال آئے تو اسے روکا نہ جائے بلکہ بلا تو قف غرباء میں تقسیم کر دیا جائے۔اس میں یہ حکمت ہے کہ حقدار کو اس کا حق پہنچنے میں کسی قسم کی دیر نہ ہو۔اور غرباء کی امداد میں کوئی توقف نہ ہونے پائے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز کے بعد جلدی جلدی اٹھ کر اپنے گھر تشریف لے گئے۔اور صحابہ نے آپ کے اس فعل میں غیر معمولی عجلت اور گھبراہٹ کے آثار محسوس کر کے آپ کے واپس تشریف لانے پر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ آج آپ اس طرح جلدی سے اٹھ کر کیوں تشریف لے گئے تھے۔جس پر آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ صدقہ کا مال رکھا تھا جسے میں تقسیم کرنا بھول گیا تھا۔پھر نماز میں مجھے وہ مال یاد آیا تو میں جلدی جلدی گھر گیا تا کہ رات کے آنے سے قبل میں اسے غرباء تک پہنچا دوں۔۔۔اللہ اللہ آپ کے دل میں غرباء کی کس قدر ہمدردی تھی کہ اس خیال نے آپ کو بے چین کر دیا کہ کوئی غریب تکلیف میں رات گزارے اور آپ کے گھر میں زکوۃ کا مال پڑا ہو۔(۷) اسلام نے صرف زکوۃ کے مفروضہ اور مقررہ ٹیکس پر ہی حصر نہیں کیا بلکہ اس کے علاوہ