مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 617 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 617

۶۱۷ مضامین بشیر (۴) اسلام کا یہ حکیمانہ ارشاد کہ دولت کو خزانوں کی صورت میں جمع کر کے بند نہ رکھا کرو بلکہ کام پر لگاؤ۔اور اگر کوئی شخص ایسا فعل کرے تو اسلام اس پر پانچویں حصہ یعنی ہیں فیصدی کا بھاری ٹیکس عائد کرتا ہے اور یہ ٹیکس غرباء کی بہبودی پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔اس کی کسی قدر تشریح آگے آتی ہے۔(۵) اسلام کا قانونِ صدقات جس میں امیروں کی دولت کا مناسب حصہ کاٹ کر غریبوں کو امداد پہنچائی جاتی ہے اور اس نظام کے دو حصے ہیں۔اول عام طوعی اور انفرادی صدقات جن کی اسلام میں انتہائی تاکید پائی جاتی ہے اور دوسرے زکوۃ جو حکومت کے انتظام کے ماتحت جبراً وصول کی جاتی اور پھر حکومت کے انتظام کے ماتحت ہی غرباء اور مساکین وغیرہ میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔یہ وہ پانچ بھاری رکن ہیں جن کے ذریعہ اسلام نے ملکوں اور قوموں کی دولت کو منصفانہ صورت میں تقسیم کرنے اور امیر وغریب کے ناگوار امتیاز کو احسن صورت میں کم کرنے کا دروازہ کھولا ہے۔اور جن کے نتیجہ میں کبھی بھی کوئی اسلامی سوسائٹی جوان اصولوں پر کار بند رہی ہو سرمایہ داری یا کمیونزم جیسی مہیب انتہاؤں کا شکار نہیں ہوئی۔اس وقت میں مختصر طور پر صرف اسلامی نظام زکوۃ کے اصولوں کو بیان کرنا چاہتا ہوں مگر میری غرض زکوۃ کے فقہی مسائل بیان کرنا نہیں بلکہ ان اصولوں کی تشریح ہے جن پر اسلام میں زکوۃ کے نظام کی بنیا درکھی گئی ہے اور بدقسمتی سے یہ وہ حصہ ہے جس کی طرف ہمارے فقہاء نے نسبتاً کم توجہ دی ہے۔حالانکہ زکوۃ کی بحث میں زیادہ اہم اور اصولی حصہ یہی ہے کیونکہ اس سے اس روح اور حکمت پر روشنی پڑتی ہے جو اسلام کے اقتصادی نظام میں خدائے حکیم کے مدنظر ہے۔(۱) سب سے پہلے میں زکوۃ کے لفظ کو لیتا ہوں کیونکہ اسلام نے دینی اصطلاحات بھی ایسی قائم کی ہیں جن کے اندر ہی مسائل کی غرض وغایت کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔سوجیسا کہ ہر مستند لغت کے مطالعہ سے پتہ لگ سکتا ہے زکوۃ کا لفظ جو زَگا سے نکلا ہے ، دو مفہوموں کے اظہار کے لئے موضوع ہے۔ایک بڑھنا یا بڑھانا اور دوسرے پاک ہونا یا پاک کرنا۔یہ ہر دو مفہوم اس لفظ میں اس طرح مرکوز ہیں کہ اس روٹ سے بننے والے جتنے بھی الفاظ عربی میں مستعمل ہیں ، ان سب میں کسی نہ کسی صورت میں یہ دو بنیادی مفہوم موجود رہتے ہیں مگر اس جگہ مفصل لغوی تشریح کی گنجائش نہیں۔بہر حال زکوۃ کے لفظ میں وضع لغت کے لحاظ سے یہ دو مفہوم پائے جاتے ہیں۔یعنی اول بڑھنا یا بڑھانا اور دوسرے پاک ہونا یا پاک کرنا۔اور اس دوہرے مفہوم میں یہ عظیم الشان اشارہ ہے کہ زکوۃ کا نظام