مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 605 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 605

مضامین بشیر دارو مدار ہے گویا ایک نپی تلی چیز ادا کرو۔اور اس کے مقابل پر ایک نپا تلا اجر لے لو اور گو اس اجر کو اعمال سے کوئی نسبت نہیں اور انسانی نجات کی اصل بنیاد خدا کے فضل پر ہے۔مگر بہر حال یہ وہ حالت ہے جسے خدا نے عدل کے نام سے تعبیر کیا ہے۔کیونکہ اس میں ایک معین عمل کے مقابلہ پر ایک معین اجر قائم کیا گیا ہے۔اور اس کے ترک پر سزا بھی رکھی گئی ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک بدوی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور پوچھنے لگا کہ یا رسول اللہ ہم پر کونسی باتیں فرض کی گئی ہیں؟ آپ نے اسے توحید پر ایمان اور نماز، روزہ، حج ، زکوۃ وغیرہ کے احکام بتائے۔جس پر وہ صحرائے عرب کا آزاد بد و بے اختیار ہوکر بولا کہ خدا کی قسم جو حکم آپ نے بتائے ہیں ان کو تو میں چھوڑوں گا نہیں مگر میں ان کے علاوہ کوئی زائد عمل بھی ہرگز نہیں کروں گا۔آپ اس کے یہ الفاظ سن کر ہنس پڑے اور صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ جو وعدہ اس نے کیا ہے اگر وہ اس پر قائم رہے تو لا ریب نجات پا گیا ۴۸ میہ وہی عدل والی صورت ہے کہ ایک ہاتھ سے انسان ایک معین چیز دیتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے ایک معین چیز لے لیتا ہے۔اس روحانی سودے میں بیشک قیمت اور جنس میں کوئی نسبت نہیں مگر جس چیز کو خود ہمارا خدا سودا قرار دے اسے ہم اور کس نام سے یاد کر سکتے ہیں۔دوسرا درجہ احسان کا ہے جب ایک انسان فرائض کی ادائیگی بجالا کر نیکی سے مانوس ہو جاتا ہے تو اس کے اندر آہستہ آہستہ یہ حس پیدا ہونی شروع ہوتی ہے کہ محض عدل کے مقام پر قانع ہونا کوئی اعلیٰ درجہ کی نیکی نہیں ہے بلکہ انسان کا قدم اس سے بھی آگے اٹھنا چاہیئے۔یہ اسی قسم کا احساس ہے جیسا کہ ایک فرض شناس طالب علم کو جو محنت کا عادی ہو جاتا ہے اور علم کی چاشنی کو پالیتا ہے یہ حس پیدا ہونی شروع ہوتی ہے کہ امتحان میں صرف پاس ہونے کے قابل نمبر لے لینا کوئی خاص خوبی کی بات نہیں اور اس جس کے پیدا ہوتے ہی وہ زیادہ محنت کر کے اور زائد توجہ دے کر اور زائد مطالعہ کر کے اعلیٰ نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اسی طرح مذہبی میدان میں فرائض کو بجالانے والا انسان بھی فرائض کی شیرینی کو پا کر نوافل کی طرف توجہ دینی شروع کر دیتا ہے تا کہ وہ اپنے روحانی امتحان میں صرف پاس ہی نہ ہو بلکہ اعلیٰ درجہ پر کامیابی حاصل کرے۔یہ احسان کا مقام ہے اور قرآن شریف میں جو بعض انبیاء کو حسن کے نام سے یاد کیا گیا ہے ، اس سے یہی مراد ہے کہ یہ بزرگ لوگ نوافل کے میدان میں خاص طور پر اعلی درجہ کی نیکیاں بجالانے والے تھے اور محض فرائض کی ادائیگی پر قانع نہیں تھے۔اسی طرح حدیث میں جو احسان کی یہ تعریف آتی ہے کہ أَنْ تَعْبُدُ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِن لَّمْ تَكُنُ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يُرَاكَ ۴۹ یعنی احسان کے معنی یہ ہیں کہ تو خدا کی