مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 604 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 604

مضامین بشیر ۶۰۴ جو معنی اس عزیز کے سوال پر میرے دل میں آئے وہ یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی ازلی حکمت کے ماتحت اپنے دین کو تین حصوں میں منقسم کیا ہے۔اول :۔فرائض یعنی بعض باتوں کے کرنے اور بعض باتوں سے رکنے کا معین صورت میں حکم دے دیا گیا ہے۔اور کرنے والی باتوں کو چھوڑنا اور نہ کرنے والی باتوں کو کرنا گناہ قرار دیا گیا ہے۔جس پر خدا کی طرف سے گرفت ہوتی ہے۔یہ وہ حصہ ہے جو عدل کے نیچے آتا ہے یعنی انسان اس حصہ پر عمل کرے گا تو نجات پائے گا اور اسے توڑے گا تو سزا کا مستحق ہوگا۔یا دوسری جہت سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ بعض معین اعمال کے مقابلہ پر ایک معین اجر مقرر کر دیا گیا ہے۔دوسرا حصہ دین کا وہ ہے جو نوافل کی صورت میں مقرر کیا گیا ہے۔یعنی خدا نے ان کا حکم نہیں دیا اور نہ ان کے ترک کو قابل سزا قرار دیا ہے مگر ان کی تحریک ضرور فرمائی ہے کیونکہ وہ انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی میں بے حدمد و موثر ہیں۔اور جو لوگ اس حصہ پر عمل کرتے ہیں ، وہ صرف نجات ہی نہیں پاتے بلکہ درجات کی بلندی حاصل کر کے بہت سے زائد انعاموں کے وارث بن جاتے ہیں۔مگر اس حصہ کا ترک انسان کو قابل مواخذہ نہیں بناتا۔اس حالت کو جیسا کہ میں آگے چل کر تشریح کروں گا ، احسان کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔کیونکہ احسان کے معنی صرف حسنِ سلوک کرنے کے نہیں ہیں۔جیسا کہ اردو زبان میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ عربی میں احسان کے معنی بہت وسیع ہیں۔جن میں سے ایک معنی نیکی کو کمال تک پہنچانے کے بھی ہیں۔تیسرا حصہ دین کا اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ اعمال کو صرف تاجرانہ رنگ میں نہ ادا کیا جائے جس میں ہر عمل کے ساتھ اس کی جزا کی توقع بھی لگی ہوئی ہو۔بلکہ انسان کے اعمال کی بنیاد خدا کی فطری محبت اور نیکی کی طبعی کشش پر قائم کی جائے۔ٹھیک اسی طرح جس طرح ایک ماں اپنے بچہ کے ساتھ معاملہ کرتی ہے۔جس کے محبت بھرے طبعی سلوک میں کوئی عصر جزا کی توقع کا نہیں پایا جا تا۔اس حالت کو قرآنی آیت نے ایتائ ذی القربیٰ کے پیارے الفاظ میں بیان کیا ہے۔یعنی خواہ تم فرائض بجالاؤ یا نوافل ادا کرو۔تمہاری نیکی کا کمال اور تمہارے روحانی سلوک کا معراج یہ ہے کہ تمہارے اعمال کی بنیاد جزا سزا کے خیال سے بالا ہو کر صرف خدا کی محبت پر قائم ہو ، جو ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے۔اس طرح اس آیت نے انسانی اعمال کو حقوق اللہ کے میدان میں بھی تین ممتاز درجوں میں تقـ کیا ہے۔اوّل: عدل یعنی فرائض کی ادائیگی یا بقول دیگران معین اعمال کا بجالا نا جن پر انسان کی نجات کا