مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 603 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 603

۶۰۳ مضامین بشیر خدا کے متعلق عدل و احسان کرنے کا مفہوم اور آیت ان الله يامر بالعدل میں ہمارے لئے ایک عظیم الشان سبق شاید ڈیڑھ ماہ کے قریب عرصہ گذرا ہے جب کہ میرے موجودہ دورہ در دنفرس کا آغا ز تھا۔ایک عزیز نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ قرآن شریف کی سورہ نحل میں جو یہ آیت آتی ہے کہ اِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتاى ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۷ آے اس کے معنی جہاں تک انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا تعلق ہے ہماری جماعت میں واضح اور معروف ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی نہائت لطیف تفسیر فرمائی ہے۔جس میں ایـــــــای ذی القربی کے یہ معنی کر کے کہ رشتہ داروں کا سا یا رشتہ داروں کی طرح دینا ، اس آیت کی تفسیر کا ایک نیا باب کھول دیا گیا ہے۔مگر کیا خدا تعالیٰ کی نسبت سے بھی اس آیت کے کچھ معنی کئے جا سکتے ہیں۔یعنی حقوق اللہ کی ذیل میں اس آیت کے کیا معنی ہوں گے؟ اس عزیز کے اس سوال پر میں ایک لمحہ کے لئے فکر میں پڑ گیا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کے اس پہلو کی طرف اس سے قبل میرا خیال نہیں گیا تھا۔مگر میرا یہ تامل ایک آنِ واحد کے لئے تھا جسے شاید سوال کرنے والے عزیز نے محسوس بھی نہیں کیا ہوگا اور اس کے بعد معاً میرے دل میں ایک معنی آئے جو میں نے اس عزیز کو خلاصتہ سنا دئیے۔اور اب دوستوں کے فائدہ کے لئے اسے مختصر تشریح کے ساتھ اس جگہ بیان کرتا ہوں چونکہ قرآن شریف کے معانی میں بے انتہا وسعت ہے اور اس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے اس لئے اگر میرے یہ معنی کسی بزرگ کے کئے ہوئے معنوں سے مختلف ہوں تو اس پر مجھے قابل گرفت نہ خیال کیا جائے۔کیونکہ ایک ہی آیت کے بہت سے معنے ہو سکتے ہیں اور ان کا باہمی اختلاف قابل اعتراض نہیں بلکہ قرآنی علوم کی وسعت کی دلیل ہے۔