مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 53 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 53

۵۳ مضامین بشیر پھر مجھے یہ بھی تعجب ہے کہ ڈاکٹر صاحب ایک طرف تو مجھ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ میری کتاب صرف محمودی‘ خیال کے لوگوں کے مطلب کی ہے اور لاہوری محققین کے مطالعہ کے قابل نہیں اور دوسری طرف یہ اعتراض ہے کہ کتاب درایت کے پہلو سے خالی ہے حالانکہ ڈاکٹر صاحب کو اپنے اصول کے مطابق میرے خلاف اس اعترض کا حق نہیں تھا کیونکہ اگر میں نے بفرض محال صرف ان روایات کو لیا ہے جو ہمارے عقیدہ کی مؤید ہیں تو میں نے کوئی برا کام نہیں بلکہ بقول ڈاکٹر صاحب عین اصول درایت کے مطابق کیا ہے کیونکہ جو باتیں میرے نزدیک حضرت کے طریق عمل اور تحریروں کے خلاف تھیں ان کو میں نے رڈ کر دیا ہے اور صرف انہیں کو لیا ہے جو میرے خیال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق عمل اور آپ کی تحریرات کے مطابق تھیں۔اور یہ ہو بھی کیسے سکتا تھا کہ میں ان کے خلاف کسی روایت کو قبول کروں کیونکہ ڈاکٹر صاحب کے اپنے الفاظ میں صریح حضرت مسیح موعود کی تحریروں اور طرز عمل کے خلاف اگر ایک روایت ہو تو حضرت مسیح موعود کو راست با زماننے والا تو قطعاً اس کو قبول نہیں کر سکتا۔ہم۔۔راوی پر حرف آنے کو قبول کر سکتے ہیں۔مگر مسیح موعود پر حرف آنے کو ہمارا ایمان ہماری ضمیر ہمارا مشاہدہ ہمارا تجر به قطعا قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔“ پس اس اصول کے ماتحت اگر میں نے ان روایتوں کو جو میرے نزدیک حضرت کی تحریرات اور طرز عمل کے صریح خلاف تھیں۔رڈ کر دیا اور درج نہیں کیا۔اور اس طرح میری کتاب محمودی عقائد کی کتاب بن گئی۔تو میں نے کچھ برا نہیں کیا۔بلکہ بڑا ثواب کمایا اور ڈاکٹر صاحب کے عین دلی منشاء کو پورا کرنے کا باعث بنا اور ایسی حالت میں میرا یہ فعل قابل شکر یہ سمجھا جانا چاہیئے نہ کہ قابل ملامت۔اور اگر ڈاکٹر صاحب کا یہ منشاء ہے کہ روایت کے اصول کی رو سے تو میں اپنے فہم کے مطابق ڑتال کیا کروں مگر درایت کے مطابق پر کھنے کے لئے ڈاکٹر صاحب اور ان کے ہم مشربوں کی فہم وفراست کی عینک لگا کر روایات کا امتحان کیا کروں۔تو گو ایسا ممکن ہولیکن ڈرصرف یہ ہے کہ کیا اس طرح میری کتاب’ پیغامی عقائد کی کتاب تو نہ بن جائے گی اور کیا ڈاکٹر صاحب کی اس ساری تجویز کا یہی مطلب تو نہیں کہ محنت تو کروں میں اور کتاب ان کے مطلب کی تیار ہو جائے۔مکرم ڈاکٹر صاحب افسوس! آپ نے اعتراض کرنے میں انصاف سے کام نہیں لیا بلکہ یہ بھی نہیں سوچا کہ آپ کے بعض اعتراضات ایک دوسرے کے مخالف پڑے ہوئے ہیں۔ایک طرف آپ یہ فرماتے ہیں کہ میری کتاب محمودی عقائد کی کتاب ہے اور دوسری طرف میرے خلاف یہ ناراضگی ہے کہ میں نے درایت سے کام نہیں لیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق عمل اور تحریرات کے