مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 575 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 575

۵۷۵ مضامین بشیر سا گھر یلو واقعہ یاد آ گیا ہے۔جو اس جگہ مختصر درج کرتا ہوں۔حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ چونکہ گذشتہ سال ایک لمبی بیماری سے اٹھے تھے۔اس لئے قیام ڈلہوزی کے آخری ایام میں حضور نے صحت کے خیال سے بعض تفریحی سیروں کا انتظام فرمایا تھا۔ان سیروں میں سے آخری سیر کا لاٹوپ پہاڑ تک کی گئی تھی۔جو ڈلہوزی سے قریباً چھ سات میل چنبہ کی جانب واقعہ ہے۔اس ٹرپ میں یہ خاکسار بھی ساتھ تھا۔مستورات کے لئے عموماً گھوڑوں کا انتظام تھا اور مرد پیدل تھے۔اور ٹرپ کا اہتمام بدستور سیدہ ام طاہر احمد کے ہاتھ میں تھا۔چونکہ سیدہ موصوفہ نے انتظام وغیرہ کی وجہ سے سب سے آخر میں آنا تھا اس لئے میں نے دیکھا کہ جب ہم اپنے گھروں سے قریباً ایک میل نکل آئے تو سیدہ مرحومہ والے گھوڑے پر ان کی بجائے ہماری بڑی ممانی آرہی ہیں۔مجھے حیرانی ہوئی کہ یہ کیا بات ہے اور میں نے اس کا ذکر حضرت امیر المومنین سے بھی کیا۔اس پر میں نے دیکھا کہ حضور کے چہرہ پر کسی قدر فکر اور اس کے ساتھ ہی رنج کے آثار ظاہر ہوئے۔فکر اس لئے کہ سیدہ اُم طاہر کی عدم موجودگی میں کہیں انتظام میں کوئی دقت نہ ہو۔اور رنج اس لئے کہ ٹرپ کو رونق دینے والی رفیقہ حیات پیچھے رہ گئیں۔مگر حضور نے زبان سے صرف اس قدر فرمایا کہ سارا انتظام ام طاہر نے ہی کیا ہوا ہے اور انہیں ہی معلوم ہے کہ کون سی چیز کہاں ہے اور کون سی کہاں۔کسی اور کو تو کچھ خبر نہیں۔میں نے اشارہ سمجھ کر جلدی سے ایک شخص کو آگے بھگایا کہ ڈاکخانہ کے چوک کے پاس جا کر کوئی اور گھوڑا تلاش کرو اور اگر مل جائے تو فوراً لے کر واپس آ جاؤ۔اور سیدہ ام طاہر کو لے آؤ۔اور خدا کا شکر ہے کہ گھوڑا فوراً مل گیا۔مگرا بھی یہ گھوڑا واپس جاہی رہا تھا کہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک خادم کو ساتھ لے کر پیدل ہی چلی آ رہی ہیں۔حالانکہ پیدل چلنے سے انہیں سخت تکلیف ہو جایا کرتی تھی۔اس وقت میں نے یوں محسوس کیا کہ انہیں دیکھ کر گویا حضرت صاحب کا فکر اور رنج سب دور ہو گیا۔اور ہم خوشی خوشی آگے روانہ ہو گئے۔ان کے پیچھے رہ جانے کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ جب وہ گھوڑے پر چڑھ کر روانہ ہو رہی تھیں تو حضرت ام المومنین اطال اللہ ظلہا نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ شوکت ( ہماری بڑی ممانی صاحبہ ) نے ضرور جانا ہے، ان کے لئے انتظام کر دو۔سیدہ موصوفہ جنہیں حضرت اماں جان سے انتہائی محبت اور اخلاص تھا۔فوراً اپنے گھوڑے سے اتر آئیں اور ممانی جان کو اپنا گھوڑا دے کر روانہ کر دیا۔اور آپ پیدل چل پڑیں۔ڈلہوزی کے ایام کا ہی ایک اور واقعہ بھی قابل ذکر ہے۔گذشتہ رمضان کا مہینہ ڈلہوزی میں ہی آیا تھا اور چونکہ حضرت صاحب کے ساتھ قافلہ بڑا تھا اس لئے سحری وغیرہ کے لئے خاص انتظام کی ضرورت تھی۔سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ با وجود اس کے کہ ایک لمبی بیماری کاٹ کر ابھی ابھی بستر سے اٹھی تھیں جسب عادت پورے شوق اور انہماک کے ساتھ اس انتظام میں مصروف