مضامین بشیر (جلد 1) — Page 570
مضامین بشیر ۵۷۰ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اس پاک گروہ میں شامل کرے۔چنانچہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تو فیق عطا فرمائی کہ میں اپنی اکثر دعاؤں میں ان کی اس نیک خواہش کو یا د رکھتا رہا ہوں اور ان کی وفات کے بعد تو کسی دعا میں بھی اسے نہیں بھولا۔اور مجھے خدا کے فضل اور رحم پر یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس نیک خواہش کو بھی ضرور پورا فر مائے گا۔ذالک ظنی بالله وارجو منه خيراً۔اور اگر میری روحانی آنکھ غلطی نہیں کرتی تو مجھے ہمیشہ مرحومہ کی زندگی اور موت دونوں میں اس کے قرائن بھی نظر آرہے ہیں۔والله اعلم ولا علم لنا الاما علمنا الله دینی اور جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہمشیرہ سیدہ ام طاہر احمد بہت سی غیر معمولی خوبیوں کی مالک تھیں۔مگر اس مختصر مضمون میں اس بات کی گنجائش نہیں کہ ان کے اوصاف پر کوئی مکمل تبصرہ کیا جائے۔اس لئے اذکروا موتاکم بالخیر ۲۵ کے ارشاد کے ماتحت صرف چند خوبیوں کے ذکر پر ہی اس جگہ اکتفا کرتا ہوں۔مرحومہ کا نہایت نمایاں وصف دینی اور جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تھا۔ان کا یہ وصف اس قدر ممتاز تھا کہ عورتوں میں تو خیر ان کی جو پوزیشن تھی وہ تھی ہی ان کا نمونہ اکثر مجاہد مردوں کے لئے بھی قابل رشک تھا۔صحت کی خرابی کے باوجود یوں نظر آتا تھا کہ گویا ان کی روح جماعتی کاموں میں حصہ لینے کے لئے ہر وقت ایک چوکس سپاہی کی طرح ایستادہ اور چشم براہ رہتی ہے۔میں اپنے خاندان کی مستورات سے اکثر ذکر کیا کرتا تھا کہ اس میدان میں سیدہ ام طاہر احمد دوسروں سے اس قدر آگے اور ممتاز ہیں کہ گویا وہی سارے کام پر چھائی ہوئی ہیں اور میں بسا اوقات تحریک کیا کرتا تھا کہ دوسروں کو بھی جماعتی کاموں میں آگے آنا چاہیئے۔حضرت خلیفہ اسیح یا جماعت کی طرف سے جو تحریک بھی ہوتی تھی سیدہ موصوفہ نہایت جوش اور اخلاص کے ساتھ اس کا خیر مقدم کرتی تھیں۔اور پھر اپنے ذاتی اثر اور دن رات کی جد و جہد کے ساتھ اس کے متعلق مستورات میں ایک غیر معمولی حرکت پیدا کر دیتی تھیں۔غیر معمولی شخصیت اللہ تعالیٰ نے انہیں شخصیت بھی ایسی عطا کی تھی کہ ان کے ساتھ کام کرے والی کا رکنات ان کی قیادت کو ہمیشہ محبت اور شوق کے ساتھ قبول کرتی تھیں۔سیدہ ام خلیل امتہ الحئی صاحبہ مرحومہ کی وفات کے بعد سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ مرکزی لجنہ اماءاللہ قادیان کی سیکرٹری مقرر ہوئیں۔اور اپنی وفات سے