مضامین بشیر (جلد 1) — Page 569
۵۶۹ مضامین بشیر سیدہ مرحومہ کا ایک خاص امتیاز اور اس کا خاص نتیجہ یہ امتیاز ایسا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بہوؤں میں سے کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔چنانچہ میں سیدہ مرحومہ کو ان کا یہ امتیاز اکثر یاد کرایا کرتا تھا۔اور وہ اسے سن کر بہت خوش ہوتی تھیں۔اور کئی دفعہ کہا کرتی تھیں کہ دعا کریں کہ آخرت میں بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاک وجود اور آپ کے خاندان کا حصہ بن کر رہوں۔سو خدا نے ان کی اس خواہش کو پورا فرمایا اور وہ حضرت خلیفۃ اصسیح الثانی ایدہ اللہ اور جماعت کی ہزاروں درد بھری دعاؤں کے ساتھ ہاں ایسی دعا ئیں جن کی نظیر پہلے بہت کم ملتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہایت قریب خاندان کی مخصوص قبروں میں جگہ پا کر اپنی آخری نیند سو رہی ہیں ہم کیوں نہ یہ یقین رکھیں کہ یہ ظاہری قرب اس روحانی قرب کی ایک علامت ہے جو مرحومہ کو عالم اخروی میں اپنے روحانی اور جسمانی باپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اپنے جسمانی اور روحانی نانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل ہوا اور ہو رہا ہے۔ایک گہری فطری صداقت اور بے حساب بخشش پانے کی آرزو مرحومہ کو خالق فطرت کی طرف سے بے حد جذباتی دل عطا ہوا تھا۔اور میرا یہ یقین بلکہ تجر بہ ہے کہ ایک نیک انسان کے جذبات کا خدا بھی احترام کرتا ہے اور یہی اس حدیث قدسی میں اشارہ ہے۔که أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی ہی ۲۳ یعنی خدا فرماتا ہے کہ میں اپنے نیک بندوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتا ہوں جیسا کہ وہ مجھ سے توقع رکھتے ہیں۔یہ ارشاد باری کسی منتر جنتر کے طور پر نہیں ہے۔بلکہ ایک گہری فطری صداقت پر مبنی ہے کیونکہ نیک جذبات کا پیدا ہونا اور نیک ظنی کا قائم ہونا سوائے قلبی طہارت کے کسی صورت میں حاصل نہیں ہو سکتا اور قلبی طہارت ہی فلاح کا پہلا زینہ ہے۔اسی ضمن میں مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ میں نے ہمشیرہ مرحومہ کے ساتھ یہ ذکر کیا کہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ میری امت میں ستر ہزار لوگوں کو بے حساب بخشش عطا فرمائے گا ۲۴۔یعنی ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جو اپنے مخصوص روحانی قرب کی وجہ سے بغیر حساب کے بخشش حاصل کریں گے۔مجھے خوب یاد ہے کہ جب میں نے مرحومہ کو یہ حدیث سنائی اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی بعض اور باتیں بھی سنائیں تو جیسا کہ مرحومہ کی عادت تھی ہر نیک تحریک کو گو یا لپک کر لیتی تھیں۔وہ نہایت اصرار اور تکرار کے ساتھ کہنے لگیں کہ میرے لئے بھی دعا کریں کہ