مضامین بشیر (جلد 1) — Page 544
مضامین بشیر ۵۴۴ خلافت کا نظام مذہب کے دائمی نظام کا حصہ ہے اور خدا کی از لی تقدیر کا ایک زبر دست کرشمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی چونکہ دنیا میں ایک عظیم الشان مشن لے کر مبعوث ہوئے تھے اور اپنے مقام کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل و بروز کامل تھے۔حتی کہ آپ نے ان کے مقام اور کام کے پیش نظر فر مایا : - " يُدْفَنُ مَعِيَ فِي قَبْرِى !! یعنی مسیح موعود میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوگا۔یعنی آخرت میں اسے میری معیت حاصل ہوگی اور اسے میرے ساتھ رکھا جائے گا۔“ اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے خداداد مشن کی تکمیل کے لئے بھی آپ کے بعد خلافت کا نظام قائم ہو۔چنانچہ آپ نے اپنی کتب اور ملفوظات میں متعدد جگہ اس نظام کی طرف اشارہ کیا ہے بلکہ آپ کے بہت سے الہامات میں بھی اس نظام کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں مگر میں اس جگہ اختصار کے خیال سے صرف ایک حوالہ پر اکتفا کرتا ہوں۔اور یہ وہ عبارت ہے جو آپ نے اپنے زمانہ وفات کو قریب محسوس کر کے اپنے متبعین کے لیئے بطور وصیت تحریر کی۔آپ فرماتے ہیں :- ” خدا کا کلام مجھے فرماتا ہے کہ وہ اس سلسلہ کو پوری ترقی دے گا۔کچھ میرے ہاتھ سے اور کچھ میرے بعد۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے۔اور ان کو غلبہ دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔لیکن اس کی پوری تحمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا۔بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر۔