مضامین بشیر (جلد 1) — Page 543
۵۴۳ مضامین بشیر لئے ایک فرد واحد کو چند سال زندگی دے کر وفات دے دی اور اس اصلاحی نظام کو اپنے ہاتھ سے ملیا میٹ کر دیا۔گویا یہ ایک بلبلا تھا جو سمندر کی سطح پر ظاہر ہوا اور پھر ہمیشہ کے لئے مٹ کر پانی کی مہیب لہروں میں غائب ہو گیا۔سبحان الله ما قدروا الله حق قدرہ ہمارا حکیم وعلیم خدا تو وہ خدا ہے کہ جو ایک ادنیٰ سے ادنی نفع دینے والی چیز کو بھی دنیا میں قائم رکھتا اور اس کے قیام کا سامان مہیا کرتا ہے۔چہ جائیکہ نبوت جیسے جو ہر اور ایک مامور کی لائی ہوئی اصلاح کو ایک ہوا کے اڑتے ہوئے جھونکے کی طرح باغ عالم میں لائے اور پھر لوگوں کے دیکھتے دیکھتے اسے ان کی نظروں سے غائب کر دے اور اس کے روح پرور اثر اور حیات افزا تا شیر کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے اپنی طرف سے کوئی انتظام نہ فرمائے۔یقینا یہ منظر ایک کھیل سے زیادہ نہیں اور کھیل کھیلنا شیطان کا کام ہے۔خدا کا نہیں۔خدا جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کی اہمیت اور وسعت کے مطابق حال اس کے لئے سامان بھی مہیا فرما تا ہے اور اس کام کے دائیں اور بائیں اور اوپر اور نیچے کو ایسی آہنی سلاخوں سے مضبوط کر دیتا ہے کہ پھر جب تک اس کا منشاء ہو کوئی چیز اسے اس کی جگہ سے ہلا نہیں سکتی۔اسی لئے خدا کی یہ سنت ہے کہ خاص خاص انبیاء کے صرف بعد ہی ان کے مشن کی مضبوطی اور استحکام کے لئے خلافت کا نظام قائم نہیں فرما تا بلکہ ان کی بعثت سے پہلے بھی اُن کے لئے رستہ صاف کرنے کی غرض سے بعض لوگوں کو بطور ا رہاص یعنی آنے والی منزل کی علامت کے طور پر مبعوث کرتا ہے۔جولوگوں کی توجہ کو آنے والے مصلح کے مشن کی طرف پھیرنا شروع کر دیتے ہیں۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے حضرت سکی بطور ا رہاص مبعوث ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے متعد دلوگ جو حنفا کہلاتے تھے ، توحید کے ابتدائی جھونکے بن کر ظاہر ہوئے اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے سید احمد صاحب بریلوی سوئے ہوئے لوگوں کی بیداری کا ذریعہ بن کر آئے۔کیا ایسے حکیم و دانا خدا سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ نبی کی چند سالہ زندگی کے بعد اس کے لائے ہوئے مشن کو بغیر کسی انتظام کے چھوڑ سکتا ہے اور اس بڑھیا کی مثال بن جاتا ہے جو اپنے محنت سے کاتے ہوئے دھاگے اپنے ہاتھ سے تباہ و برباد کر دیتی ہے۔میں پھر کہوں گا سبحان الله ما قدروا الله حق قدره۔( مطبوعه الفضل ۴ اپریل ۱۹۴۳ء)