مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 542 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 542

مضامین بشیر ۵۴۲ فرما دے گا۔اور ( چونکہ ہر تغیر کے وقت ایک خوف کی حالت پیدا ہوا کرتی ہے ) اللہ تعالیٰ ان کی خوف کی حالت کو اپنے فضل سے امن میں بدل دے گا۔یہ لوگ میرے بچے پرستار ہوں گے۔اور میرے سوا کسی معبود کے سامنے ( خواہ وہ مخفی ہو یا ظاہر ) گردن نہیں جھکا ئیں گے۔اور جو شخص ایسی نصرت و تائید کو دیکھتے ہوئے بھی اس نظام خلافت سے سرکشی اختیار کرے گا وہ یقیناً خدا کا مجرم اور فاسق سمجھا جائے گا۔یہ آیت کریمہ جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صراحت کے ساتھ خلافت کے نظام سے متعلق قرار دیا ہے ، اپنے مختصر الفاظ میں ایک نہایت وسیع مضمون کو لئے ہوئے ہے اور اس نقشہ کی بہترین تصویر ہے جو کم و بیش ہر نئی خلافت کے قیام کے وقت دنیا کے سامنے آتا ہے۔ہر نبی یا خلیفہ کی وفات ایک عظیم زلزلہ کا رنگ رکھتی ہے اور ہر بعد میں آنے والا خلیفہ ایسے حالات میں مسند خلافت پر قدم رکھتا ہے کہ جب لوگوں کے دل سہمے ہوئے اور خوفزدہ ہوتے ہیں کہ اب کیا ہوگا مگر پھر لوگوں کے دیکھتے دیکھتے خدا اس آیت کریمہ کے وعدہ کے مطابق اپنی تقدیر کی مخفی تاروں کو کھینچنا شروع کرتا ہے اور خوف کے دنوں کو امن سے بدل کر آہستہ آہستہ جماعت کو کمزوری سے مضبوطی کی طرف یا مضبوط حالت سے مضبوط تر حالت کی طرف اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔اور یہ خلفا ء اپنی دینی حالت اور دینی خدمت سے اس بات پر مہر لگا دیتے ہیں کہ خدا کی محبت اور خدا کی نصرت کا ہاتھ ان کے ساتھ ہے اور یہ سلسلہ اپنی ظاہری صورت میں اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ خدا کے علم میں نبی کے لائے ہوئے دین کے استحکام اور اس کے مشن کی تکمیل اور مضبوطی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا ہے۔یہ خلافت کا نظام جو دراصل نبوت کا حصہ اور تمہ ہے۔ہر عظیم الشان نبی کے زمانہ میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے کام کی تکمیل کے لیئے حضرت یوشع خلیفہ ہوئے اور حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد پطرس خلیفہ ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن سارے نبیوں سے زیادہ شاندار اور زیادہ وسیع تھا اس لئے آپ کے بعد خلافت کا نظام بھی سب سے زیادہ نمایاں اور شاندار صورت میں ظہور پذیر ہوا، جس کی تیز کرنیں آج تک دنیا کو خیرہ کر رہی ہیں۔حق یہ ہے کہ اگر نبوت کے ساتھ خلافت کا نظام شامل نہ ہو تو نعوذ باللہ خدا پر ایک خطر ناک الزام عائد ہوتا ہے کہ اس نے دنیا میں ایک اصلاح پیدا کرنی چاہی مگر پھر اس اصلاح کے