مضامین بشیر (جلد 1) — Page 511
۵۱۱ مضامین بشیر بڈھا مل اور بعض دوسرے مقامی ہندو اور غیر احمدی اصحاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان افسر صاحب کو سمجھایا کہ یہ شکایت محض ہماری دشمنی کی وجہ سے کی گئی ہے اور نہ اس میں بے پردگی کا کوئی سوال نہیں۔اگر بالفرض کوئی بے پردگی ہوگی تو اس کا اثر ہم پر بھی ویسا ہی پڑے گا جیسا کہ ان پر اور فرمایا کہ ہم تو صرف ایک دینی غرض سے یہ مینارہ تعمیر کروانے لگے ہیں ورنہ ہمیں ایسی چیزوں پر روپیہ خرچ کرنے کی کوئی خواہش نہیں۔اسی گفتگو کے دوران میں آپ نے اس افسر سے فرمایا کہ اب یہ لالہ بڈھا مل صاحب ہیں آپ ان سے پوچھیے کہ کیا کبھی کوئی ایسا موقع آیا ہے کہ جب یہ مجھے کوئی نقصان پہنچا سکتے ہوں اور انہوں نے اس موقع کو خالی جانے دیا ہو اور پھر ان ہی سے پوچھئے کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ انہیں فائدہ پہنچانے کا کوئی موقع ملا ہوا اور میں نے اس سے دریغ کیا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس گفتگو کے وقت لالہ بڈھامل اپنا سر نیچے ڈالے بیٹھے رہے اور آپ کے جواب میں ایک لفظ تک مونہہ پر نہیں لا سکے۔۳۷ الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجود ایک مجسم رحمت تھا وہ رحمت تھا اسلام کے لئے اور رحمت تھا اس پیغام کے لئے جسے لے کر وہ خود آیا تھا۔وہ رحمت تھا اسی بستی کے لئے جس میں وہ پیدا ہوا اور رحمت تھا دنیا کے لئے جس کی طرف وہ مبعوث کیا گیا۔وہ رحمت تھا اپنے اہل وعیال کے لئے اور رحمت تھا اپنے خاندان کے لئے اور رحمت تھا اپنے دوستوں کے لئے اور رحمت تھا اپنے دشمنوں کے لئے۔اس نے رحمت کے بیج کو چاروں طرف بکھیرا اوپر بھی اور نیچے بھی آگے بھی اور پیچھے بھی دائیں بھی اور بائیں بھی مگر بد قسمت ہے وہ جس پر یہ پیج تو آ کر گرامگر اس نے ایک بنجر زمین کی طرح اسے قبول کرنے اور اُگانے سے انکار کر دیا۔( مطبوعه الفضل ۵ دسمبر ۱۹۴۱ء)