مضامین بشیر (جلد 1) — Page 510
مضامین بشیر ۵۱۰ اجازت لینے کے بغیر ان لوگوں کے خلاف خرچہ کی ڈگری جاری کروا دی۔اس پر یہ لوگ بہت گھبرائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عاجزی کا خط بھجوا کر رحم کی التجا کی۔آپ نے نہ صرف ڈگری کے اجراء کو فوراً رکوا دیا بلکہ اپنے ان خونی دشمنوں سے معذرت بھی کی کہ میری لاعلمی میں یہ کارروائی ہوئی ہے جس کا مجھے افسوس ہے اور اپنے وکیل کو ملامت فرمائی کہ ہم سے پوچھے بغیر خرچہ کی ڈگری کا اجراء کیوں کروایا گیا ہے۔اگر اس موقع پر کوئی اور ہوتا تو وہ دشمن کی ذلت اور تباہی کو انتہا تک پہنچا کر صبر کرتا مگر آپ نے ان حالات میں بھی احسان سے کام لیا اور اس بات کا شاندار ثبوت پیش کیا کہ آپ کو صرف گندے خیالات اور گندے اعمال سے دشمنی ہے کسی سے ذاتی عداوت نہیں اور یہ کہ ذاتی معاملات میں آپ کے دشمن بھی آپ کے دوست ہیں۔اسی طرح یہ واقعہ بھی اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ جب ایک خطر ناک خونی مقدمہ میں جس میں آپ پر اقدام قتل کا الزام تھا ، آپ کا اشد ترین مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی آپ کے خلاف بطور گواہ پیش ہوا اور آپ کے وکیل نے مولوی صاحب کی گواہی کو کمزور کرنے کے لئے ان کے بعض خاندانی اور ذاتی امور کے متعلق ان پر جرح کرنی چاہی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی ناراضگی کے ساتھ اپنے وکیل کو روک دیا اور فرمایا کہ خواہ کچھ ہو میں اس قسم کے سوالات کی اجازت نہیں دے سکتا اور اس طرح گویا اپنے جانی دشمن کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائی۔اسی طرح جب پنڈت لیکھرام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق لاہور میں قتل ہوئے اور آپ کو اس کی اطلاع پہنچی تو گو پیشگوئی پورا ہونے پر آپ خدا تعالیٰ کا شکر بجالائے مگر ساتھ ہی انسانی ہمدردی میں آپ نے پنڈت لیکھرام کی موت پر افسوس کا بھی اظہار کیا اور بار بار فرمایا کہ ہمیں یہ درد ہے کہ پنڈت صاحب نے ہماری بات نہیں مانی اور خدا اور اُس کے رسول کے متعلق گستاخی کے طریق کو اختیار کر کے اور ہمارے ساتھ مباہلہ کے میدان میں قدم رکھ کر اپنی تباہی کا بیج بولیا۔قادیان کے بعض آریہ سماجی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت مخالف تھے اور آپ کے خلاف نا پاک پرا پیگنڈے میں حصہ لیتے رہتے تھے مگر جب بھی انہیں کوئی تکلیف پیش آتی یا کوئی بیماری لاحق ہوتی تو وہ اپنی کارروائیوں کو بھول کر آپ کے پاس دوڑے آتے اور آپ ہمیشہ ان کے ساتھ نہایت درجہ ہمدردانہ اور محسنا نہ سلوک کرتے اور ان کی امداد میں دلی خوشی پاتے۔چنانچہ ایک صاحب قادیان میں لالہ بڑھامل ہوتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت مخالف تھے۔جب قادیان میں منارة امسیح بننے لگا تو ان لوگوں نے حکام سے شکایت کی کہ اس سے ہمارے گھروں کی بے پردگی ہوگی اس لئے مینار کی تعمیر کو روک دیا جائے۔اس پر ایک مقامی افسر یہاں آیا اور اس کی معیت میں لالہ