مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 480 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 480

مضامین بشیر ۴۸۰ عائشہ بہر حال بُری اور معصوم تھیں۔اس لئے ان کے قصہ کے ذیل میں کسی شادی شدہ کی سزا کا بیان کرنا ضروری نہیں تھا بلکہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عائشہ کی بریت اور معصومیت کا احترام یہ چاہتا تھا کہ اس میں کسی ایسی سزا کی طرف اشارہ نہ ہو جو شادی شدہ سے تعلق رکھتی ہے تا کہ حضرت عائشہ کی بریت کا اعلان بالکل بے داغ رہے۔اسی لئے سورہ نور میں صرف غیر شادی شدہ کی سزا کے ذکر پر اکتفا کی گئی اور شادی شدہ کا ذکر ترک کر دیا گیا۔تیسری دلیل سوم : یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ قرآن شریف نے زیادہ سخت اور زیادہ اہم سزا کا ذکر ترک کر کے کم اہم سزا کو اس لئے بیان کیا ہوتا اس ذریعہ سے یہ اشارہ کیا جائے کہ یہ ایک ایسا جرم ہے کہ اس کا ادنی درجہ بھی خدا کے نزدیک بر ملا سزا کے قابل ہے اور اس کے اوپر کے درجے تو بہر حال قابل سزا ہیں ہی۔چوتھی دلیل چہارم : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو اسلامی شریعت اور خصوصاً شریعت کے تعزیری حصہ کے تفقہ میں بہت بلند پایہ رکھتے ہیں۔رجم کی سزا پر اس قدر یقین تھا کہ وہ زور وشور کے ساتھ اعلان فرمایا کرتے تھے کہ دیکھنا یہ نہ سمجھنا کہ رجم کا حکم قرآن میں نہیں ہے۔اس لئے اس پر عمل واجب نہیں ہے بلکہ یہ حکم قرآنی شریعت کا حصہ ہے اور اس پر عمل ضروری ہے۔پانچویں دلیل پنجم : بے شک عام حالات میں اسلام نے قتل کے طریق میں نرمی کا پہلو اختیا ر کیا ہے اور نرمی کی تعلیم دی ہے لیکن چونکہ زنا ایسا جرم ہے کہ اس کا سوسائٹی کے اخلاق پر بہت بھاری اثر پڑتا ہے اور ضروری ہے کہ سخت ذرائع استعمال کر کے اس جرم کا انسداد کیا جائے۔اس لئے اسلام نے اس بارے میں سخت سزا کا حکم دیا۔کیونکہ اس سختی کے پردہ میں بھی مخلوق ہی کے لئے رحمت و شفقت پنہاں ہے۔چھٹی دلیل ششم : جس شخص سے خدائے ارحم الراحمین جس کی ستاری کی صفت انتہا کو پہونچی ہوئی ہے۔