مضامین بشیر (جلد 1) — Page 478
مضامین بشیر ۴۷۸ سوم : کہا جاتا ہے کہ شروع میں رجم کی سزا کے متعلق قرآن شریف میں ایک آیت بھی نازل ہوئی تھی۔اور وہ یہ کہ الشيخ والشيخة اذازنيا فارجموھما۔مگر بعد میں اس آیت کے الفاظ تو منسوخ ہو گئے مگر حکم قائم رہا۔اگر یہ درست ہے تو اس آیت کا ترک کیا جانا اور اس کے الفاظ کا منسوخ کیا جانا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اب یہ سزا نہیں رہی۔ورنہ جب آیت اتر چکی تھی اور سزا بھی قائم کی تھی تو آیت کو ترک کیوں کیا گیا۔علاوہ ازیں الفاظ کا منسوخ ہو جانا اور حکم کا قائم رہنا بھی ایک غیر معقول ساخیال ہے۔پھر مزعومہ آیت کے الفاظ بھی یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ یہ کوئی قرآنی آیت نہیں۔چوتھا سوال چہارم : اسلام نے اصولی تعلیم دی ہے کہ قتل کرنے کے طریق میں نرمی کو اختیار کرنا چاہیئے۔چنا نچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مسلمان قتل کرنے کے طریق میں سب لوگوں سے زیادہ نرم ہوتا ہے۔اور ایک دوسری حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ ہدایت بیان ہوئی ہے کہ جب کبھی مسلمان جنگ میں کافروں کے سامنے ہو تو اسے چاہئے کہ کسی کے مونہہ پر ضرب نہ لگائے ۲۲ وغیرہ وغیرہ۔ان اصولی ارشادات کے ساتھ رجم کی سزا جو ایک سخت ترین طریق قتل پر مشتمل ہے۔جس میں عملاً زیادہ تر سرا اور مونہہ ہی پتھروں کا نشانہ بنتے ہیں، کسی طرح مطابقت نہیں کھاتی۔پانچواں سوال پنجم : آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عام طریق تھا کہ جب تک اسلامی شریعت کا کوئی نیا حکم نازل نہیں ہوتا تھا۔آپ بالعموم موسوی شریعت کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔پس جب رجم کے متعلق قرآن کریم میں کوئی حکم موجود نہیں تو کیوں نہ سمجھا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو رجم کی بعض مثالیں ملتی ہیں۔وہ اس بناء پر نہیں ہیں کہ اسلام رجم کا حکم دیتا ہے بلکہ اس بنا پر ہیں کہ سابقہ شریعت میں اس کا حکم تھا۔اور جب اسلامی شریعت آئی تو یہ حکم منسوخ کر دیا بلکہ بعض لوگ اسے غلطی سے غیر منسوخ سمجھتے رہے۔چھٹا سوال ششم : قرآن شریف میں یہ صریح حکم موجود ہے کہ زنا کے معاملہ میں ایک لونڈی کی سزا آزاد عورت سے نصف ہے مگر ظاہر ہے کہ رجم کی صورت میں میں سزا کا نصف ہونا کسی طرح ممکن نہیں۔