مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 468 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 468

مضامین بشیر کو بھی قبول کرنا ہوگا۔لطیف مضمون ۴۶۸ اب غور کرو کہ یہ ایک کیسا لطیف مضمون ہے جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے ان مختصر مگر عجیب و غریب الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے، ظاہر ہے کہ اس جگہ پیدا ہونے سے یہ مراد نہیں کہ جس طرح ماں باپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے ، اس طرح عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے بلکہ عربی محاورہ کے مطابق اس سے یہ مراد ہے کہ عورت کی فطرت میں ٹیڑھا پن داخل ہے جو اس سے جدا نہیں ہو سکتا۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۱۵ یعنی انسان جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے، جس سے یہ مراد نہیں کہ جلد بازی کے مواد سے انسان پیدا ہوا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ انسانی فطرت میں جلد بازی کا مادہ ہے۔اسی طرح ٹیڑھی پہلی سے پیدا سے ہونے سے یہ مراد ہے کہ عورت کی فطرت میں بعض طبعی کجیاں پائی جاتی ہیں جو اس کی طبیعت کا حصہ اور اس کے ساتھ لازم و ملزوم کے طور پر لگی ہوئی ہیں اور اس سے جدا نہیں ہو سکتیں۔بہر حال ان الفاظ میں فصاحت و بلاغت کا کمال دکھا کر نہایت مختصر صورت میں ایک نہایت وسیع مضمون کو ادا کیا گیا ہے۔ملوک الکلام مگر اسی پر بس نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد ایک اور عجیب وغریب فقرہ فرماتے ہیں جو گویا اس سارے کلام کی جان ہے۔فرماتے ہیں :- إِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الفَلَّحِ أَعْلَاهُ۔٦ یعنی ایک ٹیڑھی چیز کا وہ حصہ جو سب سے زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے وہی اس چیز میں سب سے زیادہ اونچا ہوتا ہے۔“ یہ عبارت نہ صرف اپنی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے بلکہ اپنے اس عظیم الشان فلسفہ کے لحاظ سے بھی جو ان الفاظ کی گہرائیوں میں مرکوز ہے ، ملوک الکلام کہلانے کی حقدار ہے۔عورت کے فطری ٹیڑھے پن کا ذکر کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ نہ سمجھو کہ عورت کا یہ ٹیڑھا پن ایک نقص یا کمزوری ہے بلکہ اس کی یہ فطری بھی دراصل اس کے اندر ایک حسن اور خوبی کے طور پر رکھی گئی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جس طرح کہ ایک ٹیڑھی چیز کا سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ ہی سب سے