مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 467 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 467

۴۶۷ مضامین بشیر کھینچتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔وَاسْتَوُ صُوا بِالنَّساءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَئي فِى الضَّلَعِ أَعْلَاهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ ، وَ أَن تَرَكْتُهُ لَمْ يَزَلُ أَعْوَجَ ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا۔١٢ یعنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو کیونکہ عورتیں ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہیں۔یعنی ان کی فطرت میں کسی قدر ٹیڑھا پن رکھا گیا ہے اور ایک ٹیڑھی چیز کا سب سے اونچا حصہ وہی ہوتا ہے جو سب سے زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے۔اس صورت میں اگر تم اس کے اس ٹیڑھے پن کو سیدھا کرنے کے درپے رہو گے تو چونکہ یہ بھی عورت کی فطرت کا حصہ ہے ، تم اسے سیدھا تو نہیں کر سکو گے البتہ اسے تو ڑ کر ضرور رکھ دو گے۔اور اگر تم اسے بالکل ہی اس کی حالت پر چھوڑ دو گے تو ظاہر ہے کہ وہ ہر حال میں ٹیڑھی ہی رہے گی۔ان حالات میں میری تمہیں یہ نصیحت ہے کہ عورتوں کے اس ٹیڑھے پن کی قدر و قیمت کو سمجھو اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اگر ان کا ٹیڑھا پن حد اعتدال سے بڑھنے لگے تو اس کی مناسب طور پر اصلاح کرو“ عورت کی فطرت کا عجیب وغریب نقشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلام جس کا میں نے اس جگہ آزاد تر جمہ کیا ہے ، عورت کی فطرت کا ایک ایسا عجیب و غریب نقشہ پیش کرتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے لطیف تر اور اس سے زیادہ دلکش اور پھر اس سے زیادہ مختصر نقشہ ممکن نہیں۔یہ ایک ایسی تصویر ہے جس پر نظر جماتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس تصویر نے جو بعض پر دوں میں لپٹی ہوئی ہے ایک زندہ صورت اختیار کر لی ہے اور پھر اس کے پردے ایک ایک کر کے اُٹھنے شروع ہوتے ہیں اور ہر پردہ کے الٹنے سے ایک بالکل نیا منظر آنکھوں کے سامنے آنے لگتا ہے۔فرماتے ہیں کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے یعنی اس کی فطرت میں بعض ایسی کجیاں رکھی گئی ہیں جو گویا اس کی ہستی کے ساتھ لازم و ملزوم کے طور پر ہیں۔اس کی ان کجیوں اور اس ٹیڑھے پن کو اس سے جدا کر لو تو پھر عورت عورت نہیں رہے گی کیونکہ یہ ٹیڑھا پن اس کی فطرت کا حصہ اور اس کے پیدائشی خط و خال کا جز ولا ینفک ہے۔پس اگر تم عورت کو عورت کی صورت میں دیکھنا چا ہو تو تمہیں لازماً اس کے فطری ٹیڑھے پن